دہشتگردی کیخلاف اہم پیش رفت: کے پی اسپیشل برانچ کو مکمل یونٹ کا اسٹیٹس مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی اسپیشل برانچ کو باضابطہ طور پر ایک اسپیشلائزڈ یونٹ اور علیحدہ کیڈر کی حیثیت دینے کی منظوری دے دی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں اس حوالے سے بڑے انتظامی اور مالی فیصلے کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس میں اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 1221 نئی اسامیوں کی تخلیق کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ محکمے کے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور جدید ضروریات کے مطابق اپگریڈیشن کے لیے 1820 ملین روپے مختص کیے گئے، اس کے علاوہ موٹر وہیکل فلیٹ کی بہتری کے لیے 904.
حکومت نے اسپیشل برانچ کو درکار 98 گاڑیاں اور 404 موٹر سائیکلیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جدید ٹیکنیکل آلات، فیلڈ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سسٹمز کی خریداری کے لیے 2543.9 ملین روپے مختص کیے گئے تاکہ محکمے کی تکنیکی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اسپیشل برانچ پولیس کا بنیادی ستون ہے، اس لیے محکمہ کو تمام ہیومن ریسورس، آلات اور ٹیکنالوجی فوری بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی، بہتر وسائل کے بغیر موثر انٹیلیجنس سسٹم ممکن نہیں، اسی وجہ سے اسپیشل برانچ کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں اسپیشل برانچ کے مجوزہ الاؤنسز کو بھی ترجیحی بنیادوں پر منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، ساتھ ہی اسپیشل برانچ کے لیے نئی عمارتوں کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جس سے ادارے کو مستقل اور منظم آپریشنل ڈھانچہ مل سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسپیشل برانچ کو کیے گئے کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔