پاکستان رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم ڈیجیٹلائز کرے: آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد ( عترت جعفری ) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنا چاہئے آن لائن درخواست دائر کرنے کی سہولت اور مانیٹرنگ ہونی چاہیے تاکہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کے حوالے سے عمل درآمد ایک نظام الاوقات کے اندر ہو‘ پاکستان انفارمیشن کمیشن کام کر رہا ہے جو پاکستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن سسٹم میں سہولت دیتا ہے‘ ملک میں کوئی بھی شہری اپنی آر ٹی آئی ریکویسٹ متعلقہ حکومتی ادارے کو دیتا ہے اور اگر اس کی درخواست پر عمل نہ ہو تو وہ انفارمیشن کمیشن میں اپیل کر سکتا ہے‘ تاہم ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ آر ٹی آئی درخواستوں پر تیزی سے عمل نہیں کیا جاتا اور بعض اثتثنیات لے کر انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ شفافیت کے لیے او جی پی شمولیت کے لیے دوبارہ عمل کا آغاز کرے شائستہ پرویز نے وزارت خزانہ سے یہ سوال کیا ہے کہ کیا وزارت خزانہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کیا پالیسی اختیار کرئے گی کہ تمام ضمنی گرانٹس پارلیمنٹ میں پیش ہوں اور ان پر بحث کی جائے جیسا کہ آئی ایم ایف نے اپنی سفارشات میں بھی کہا ہے کہ ضمنی گرانٹس کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔