ایک بھارتی بزرگ خاتون نے اپنے دھماکے دار ڈانس سے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔

انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں 75 سالہ دادی کو مشہور گانے ’’دو گھونٹ پلا دے ساقیا‘‘ پر اس انداز سے ناچتے دیکھا گیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔

ڈانس کے دوران دادی نے ایسا خوبصورت فرنٹ فلپ لگایا کہ پورا مجمع ششدر رہ گیا۔ وہاں موجود لوگ اس سین کو اپنے موبائل کیمروں میں قید کرتے رہے، اور کئی تو حیرت سے منہ کھولے رہ گئے کہ اس عمر میں کوئی اتنی پھرتی کیسے دکھا سکتا ہے!

 

        View this post on Instagram                      

ویڈیو کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک اسے 4 کروڑ 74 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ ہزاروں افراد تبصرے کرکے دادی کی توانائی اور جاندار پرفارمنس کو سراہ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل بھی دلچسپ رہا۔ ایک صارف نے لکھا ’’پرانے کھلاڑی پھر میدان میں اتر آئے!‘‘ دوسرے نے مزاحیہ انداز میں کہا ’’اور ادھر میں 36 سال کی عمر میں کمر کے درد سے لڑ رہا ہوں!‘‘

ایک اور تبصرہ کچھ یوں تھا ’’لوگ بڑھی عمر کو شوق کے ختم ہونے سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ یہ ’بوڑھے‘ لوگ کبھی بچے، نوجوان اور زندگی سے بھرپور تھے۔ آج کے بزرگ تو فٹ ہیں، وہ تو ہم ہوں گے جو 70 پر وہیل چیئر پر بیٹھے ہوں گے!‘‘

ایک اور صارف نے حیرت سے لکھا ’’ذرا سوچیں، جوانی میں دادی کیسا ڈانس کرتی ہوں گی!‘‘
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی