data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے چار دسمبر کے اجلاس سے قبل خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے حق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں نے صوبے کے حقوق کے تحفظ اور بقایاجات کے حصول کے لیے یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے این ایف سی پر بحث کی اجازت دی، جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے خیبرپختونخوا کے حصے کے حوالے سے موقف پیش کیا۔

حکومتی ارکان نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کا حصہ بڑھ کر 19 فیصد تک پہنچ گیا لیکن وفاق کی جانب سے بجلی کے خالص منافع اور دیگر حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے، یہ مسئلہ صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا ہے۔

اپوزیشن ارکان نے بھی صوبے کے حقوق کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  کہا کہ حقوق کے لیے نعرے لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ بیٹھ کر مؤثر انداز میں بات کرنی ہوگی۔

 صوبائی وزیر مینا خان نے کہا کہ این ایف سی کے تحت صوبے کا حصہ 14.

62 فیصد بنتا ہے، ضم اضلاع کے اخراجات میں وفاق نے وعدہ کردہ 100 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے، جبکہ بقایاجات کے حوالے سے بھی صوبے کے وسائل کا حق دیا جائے۔

حکومتی ارکان نے زور دیا کہ یہ حق آئین و قانون کے تحت صوبے کا جائز حصہ ہے، نہ کہ کسی سے خیرات یا بھیک مانگی جا رہی ہے، صوبے کے تمام سابق وزراء اور متعلقہ ارکان کو بھی شامل کر کے این ایف سی میں مؤثر طریقے سے موقف پیش کیا جائے گا تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایف سی ارکان نے صوبے کے صوبے کا کے لیے

پڑھیں:

پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش

فوٹو: فائل

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔

پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن