Jasarat News:
2026-07-24@01:56:25 GMT

آئینی ترامیم،اصل فائدہ کس کا؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-03-6
(دوسرا اور آخری)

انیسویں ترمیم کے تحت 22 دسمبر 2010 کو عدالت عالیہ اسلام آباد قائم کی گئی اور عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضع کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ آج بھی حلق کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔ اس کے بعد بیسویں ترمیم لائی گئی 14 فروری 2012 کو ’’صاف شفاف‘‘ انتخابات کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کیا گیا۔ اکیسویں ترمیم میں 7 جنوری 2015 کو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ملٹری کورٹس متعارف کروائی گئیں۔ آرمی پبلک اسکول کے ذمے داروں کا کیا بنا یہ الگ قصہ ہے لیکن فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل آج بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ آئین پاکستان میں بائیسویں ترمیم 8 جون 2016 کو ہوئی، اس میں بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات چیف الیکشن کمشنر کو دیے گئے، چیف الیکشن کمشنر کی اہلیت کا دائرۂ کار تبدیل کیا گیا، جس کے تحت بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بن سکیں گے۔ تیئیسویں ترمیم 7 جون 2017 کو منظور ہوئی، 2015 میں قومی اسمبلی نے 21 ویں ترمیم میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی تھیں، یہ دورانیہ 6 جنوری 2017 کو ختم ہوا، اس ترمیم میں فوجی عدالتوں کے دورانیے کو مزید دو سال کے لیے، 6 جنوری 2019 تک بڑھایا گیا۔ جس طرح سندھ میں رینجرز کے قیام کی مدت بڑھائی جاتی ہے اسی طرح یہ کام بھی کردیا گیا۔ آئین پاکستان میں چوبیسویں ترمیم 22 دسمبر2017 کو ہوئی، وفاقی اکائیوں کے مابین نشستوں کے تعین کا اعادہ اور 2017 کی خانہ و مردم شماری کی روشنی میں نئے انتخابی حلقوں کی تشکیل، عمل میں آئی۔ پچیسویں ترمیم 31 مئی 2018 کو لائی گئی اور فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا گیا۔

پاکستان میں عدلیہ کے پر کاٹنے بلکہ اسے عضو معطل بنانے والی ترمیم 26 ویں ترمیم کہلاتی ہے۔ 20 اکتوبر 2024 کی اس ترمیم میں چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کرنے کی تجویز دی گئی۔ یہ پوری ترمیم، عدالت عظمیٰ، ججوں کے تقرر، تبادلے، ریفرنسز، مدت ملازمت، عمر کی حد، عدالت کے اختیارات کی حد بندیوں وغیرہ کے گرد گھومتی ہے۔ اور یہ عدلیہ پر کھلا حملہ تھا لیکن عدلیہ کے رکھوالوں اور ججوں کے درمیان اختلافات اور چھوٹے چھوٹے مفادات نے انہیں اس پر کوئی رکاوٹ ڈالنے سے روک دیا اور انہیں اس کا اندازہ بھی تھا، انہیں چند مہینوں میں غلطی کا احساس ہوگیا لیکن اب دیر ہوچکی تھی، فائدہ اٹھانے والوں نے فائدہ اٹھا لیا، کچھ ججوں کو کچھ فوائد بھی مل گئے۔ اور تمام اختیارات قومی اداروں سے چھیننے کا کام کرنے والوں نے اپنا کام جاری رکھا اور اب ستائیسویں ترمیم بھی آگئی بلکہ چھاگئی ہے۔ یوں عدالت عظمیٰ پر حکومت کا اور اس کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول قائم ہوگیا۔ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں جے یو آئی نے جس چیز کا ذکر کامیابی کے طور پر کیا تھا وہ معیشت سے سود کے خاتمے کا اعلان ہے۔ پاکستان میں بینکنگ اور کسی بھی قسم کے لین دین سے سود کے خاتمے کے لیے آرٹیکل 38 میں کی گئی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028 تک ملک سے سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ ہوگا یا نہیں، ویسے تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ حکمران حکومت اور اپوزیشن ایسا کرنے والے نہیں ہیں، یہ بچھڑے (سودی نظام) کی قربانی نہیں دیں گے، بس کفار کی طرح نشانیاں ہی پوچھتے رہیں گے، ایک اور کارنامہ چھبیسویں ترمیم میں ہے، وہ یہ کہ آئین میں ایک نئی شق آرٹیکل نو اے بھی متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی شہری حقوق میں شامل کردیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ دیگر بنیادی حقوق سے قوم کی بڑی اکثریت محروم ہے۔

سوال یہ ہے کہ ستائیسویں ترمیم میں کیا ہوا ہے، ہنگامہ کیوں بپا ہے؟ بظاہر تو اس ترمیم

سے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر 2030 تک فوج کے سربراہ ہوگئے ہیں، آرمی، ائر فورس اور نیوی ترمیمی بلز کی قومی اسمبلی میں منظوری سے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوگیا ہے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹی فکیشن جاری ہو گا جس کے بعد آرمی چیف کی مدت بطور چیف آف ڈیفنس فورسز دوبارہ سے شروع ہوگی۔ وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔ کمانڈر نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈر کی مدت ملازمت 3 سال ہوگی۔ قومی اسمبلی میں وضاحتی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی منظوری کے بعد آرمی چیف کے عہدے کی مدت 5 سال ہوگی اور تعیناتی کی تاریخ سے مدت شمار ہوگی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے اور موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی اپنی ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر برقرار رہیں گے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے۔ کمانڈر نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔ مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔ اس ترمیم پر صدر مملکت نے دستخط کردیے ہیں اور یہ آئین کا حصہ بن گیا ہے، یہاں زیادہ تنقید کا نشانہ فیلڈ مارشل اور عدلیہ کو بنایا جارہا ہے، جو اس اعتبار سے درست ہے کہ فوج کے سربراہ کو کس چیز کا خوف ہے، عدلیہ کے ججوں نے چھبیسویں ترمیم کے موقع پر جس دوہرے روئیے کا مظاہرہ کیا اور خاموش رہے، ستائیسویں ترمیم اسی روئیے کا شاخسانہ ہے۔ اس ترمیم میں وزرائے اعظم کو بھی استثنیٰ دینے کی بات ہوئی تھی لیکن اس صورت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی استثنیٰ مل جاتا۔ لہٰذا اسے وزیر اعظم کے نمبر بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اپنے لیے استثنیٰ لینے سے انکار کرتے ہوئے وزرائے اعظم کا لفظ نکلوا دیا۔

پاکستان میں ہونے والی آئینی ترامیم کے ظاہری نتائج اور فائدہ اٹھانے والوں کا بہت ذکر ہوتا ہے، نام تک لیے جاتے ہیں، 1973 کے آئین اور اس کی قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے ایک ایک مرحلے سے قوم واقف ہے۔ آئین کی تیاری، تنازعات، ترامیم تجاویز ہر مرحلہ ریکارڈ پر ہے لیکن آٹھویں ترمیم کے بعد سے پراسرار انداز نے جگہ لے لی، راتوں رات پیچیدہ شقوں میں ترامیم تجویز ہوتیں اور چند گھنٹوں میں پیش کرنے سے لے کر منظوری تک کا عمل مکمل ہو جاتا، آخر یہ کیسا جادو ہے، وہ کون جادوگر ہے جو لمحوں میں ترامیم لاتا اور منظور کراتا ہے، دستور کے ابتدائی خاکے اور منظوری تک کے سارے عمل کے برخلاف نئی ترامیم کا کوئی خالق سامنے نہیں آتا، کوئی حفیظ پیرزادہ، کوئی مفتی محمود، کوئی پروفیسر غفور، کوئی مولانا نورانی سامنے نہیں آتا، بس ترامیم آتی ہیں اور منظور ہوجاتی ہیں، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ پہلے ان اسمبلیوں میں کچھ لوگ مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں، سو انہیں اسمبلیوں سے باہر کردیا گیا، کبھی آر ٹی ایس بیٹھا، کبھی فارم 47 آگیا، کبھی زبردستی نتیجہ تبدیل کیا گیا۔ اب پارلیمنٹ میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں اور ان کو غیر موجود رکھنے کے ذمے دار وہی ہیں جو یہ سارے جادو کرتے ہیں۔ بس ان کا نام نہیں آتا، بے چارے نام نہاد سیاستدان سارا الزام چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر اپنے سر لے لیتے ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ساری ترامیم سے آرمی چیف اور عدلیہ کے فائدے کی بات کررہے ہیں، لیکن سب سے زیادہ خطرے میں جو شخصیت تھی اور جو اپنے بارے میں خدشات کا شکار تھی، وہ صدر مملکت کی شخصیت ہے، خطرہ بھی انہیں تھا اور اصل فائدہ بھی وہی اٹھائیں گے، آرمی چیف یا فوج کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ ذرا گرد بیٹھنے دیں پھر پتا چلے گا کہ کون سب سے زیادہ فائدے میں ہے۔ عوام کو تو بیش تر آئینی ترامیم میں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیف ا ف ڈیفنس فورسز جوائنٹ چیفس ا ف پاکستان میں ا رمی ایکٹ کردیا گیا ا رمی چیف عدلیہ کے ترمیم کے ف کمیٹی کیا گیا کی مدت کے بعد کے تحت کے لیے فوج کے نہیں ا

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن