لاہور:

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی پر قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔

مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان وزیراعظم کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تاریخی تعیناتی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے ان کا تقرر قومی سلامتی کے لیے سنگِ میل ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پانچ سالہ تعیناتی دفاعی قیادت میں تسلسل اور استحکام کو یقینی بناتی ہے۔ یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت ملکی دفاع کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے۔ 

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے فیصلے کو بھی سراہتا ہے۔ فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے یہ توسیع وقت کی اہم ضرورت تھی۔ یہ ایوان مسلح افواج کی پیشہ ورانہ خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ پاکستان کی فوج، فضائیہ اور دفاعی ادارے ریاست کے مضبوط ترین ستون ہیں۔

حنا پرویز بٹ نے قرارداد میں کہا کہ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ قومی سلامتی کے فیصلوں میں تسلسل اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ دفاعی اداروں کی مضبوطی کے لیے تمام قومی فورمز مشترکہ کردار ادا کریں۔ یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ مستحکم عسکری قیادت ہی معاشی، سیاسی اور سلامتی کے اہداف کے حصول میں معاون ہوتی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ پاکستان کے دفاع، امن اور اتحاد کے لیے ایک مضبوط کمانڈ ساخت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق کیے گئے فیصلوں کی مکمل حمایت جاری رہے گی۔ یہ ایوان عزم کرتا ہے کہ پاکستان کی یکجہتی اور دفاع کے لیے تمام ادارے ایک سمت میں کام کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قرارداد میں کہا گیا کرتا ہے کہ سلامتی کے یہ ایوان چیف آف کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار