آئس لینڈ یوروسنگ 2026 میں حصہ لینے پر غور کر رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگردور کیٹرین گنارسڈوٹر نے کہا ہے کہ ملک یوروسنگ 2026 میں حصہ لینے یا نہ لینے پر غور کرے گا کیونکہ یورپی گانوں کے مقابلے کے منتظمین (EBU) نے اسرائیل کو مقابلے میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیر خارجہ نے برلن میں اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں غزہ کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئس لینڈ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جنگ بندی کی ضرورت ہے اور انسانی امداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ آئس لینڈ کی حکومت اور قومی براڈکاسٹر RUV اس معاملے کا جائزہ لیں گے، یہ آئس لینڈ میں حساس معاملہ ہے، ہم ہر پہلو سے غور کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے۔
RUV کے بورڈ کا اجلاس بدھ کو ہوگا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آئس لینڈ اگلے سال یوروسنگ میں حصہ لے گا یا نہیں۔
اسرائیل کی شمولیت گزشتہ برسوں میں متنازع رہی ہے، کیونکہ غزہ میں جاری حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل کے حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
یوروسنگ میں دنیا کے مختلف ملکوں کے گانے پیش کیے جاتے ہیں اور عوام اور ججز کے ووٹ کے ذریعے فاتح منتخب ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آئس لینڈ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔