دنیا کے امیر ترین سیاستدانوں کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
دنیا بھر میں سیاست، طاقت اور دولت کے تعلق پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے ہیں اور سیاستدانوں کے مالی وسائل اکثر عوامی بحث کا مرکز بنتے ہیں, ایک تازہ بین الاقوامی رپورٹ میں دنیا کے امیر ترین سیاستدانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں کئی طاقتور حکمران نمایاں مقام پر نظر آتے ہیں۔
بین الاقوا می رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن دنیا کے امیر ترین سیاستدان قرار پائے ہیں، جن کی مجموعی دولت کا اندازہ تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، اگرچہ ان کی دولت کے ذرائع پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، عالمی تحقیقی اداروں کے مطابق ان کے پاس نجی کاروبار، توانائی کے شعبوں سے اثر و رسوخ اور خفیہ اثاثوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔
امیر ترین حکمرانوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو شامل ہیں، جن کی دولت کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً 7.
فہرست میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن تقریباً 5 ارب ڈالر جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی دولت کا تخمینہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے، افریقی ملک ایکویٹوریل گنی کے صدر تیودورو اوبیانگ تقریباً 60 کروڑ ڈالر کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔
دیگر امیر سیاستدانوں میں روانڈا کے صدر پال کاگامے، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا بھی شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کی دولت تشخیص کرنے کے لیے نجی سرمایہ کاری، خاندانی جائیدادوں، کاروباری شراکت داریوں اور ریاستی اثر و رسوخ کو مدنظر رکھا گیا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام تخمینے عوامی مالی دستاویزات، کاروباری سرگرمیوں اور غیر سرکاری تجزیوں کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ ریاستوں کی جانب سے ان تخمینوں کی سرکاری سطح پر تردید یا تصدیق موجود نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فہرست میں ارب ڈالر شامل ہیں کی دولت کے صدر گیا ہے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔