بدین، بااثر وڈیرے اور پولیس کیخلاف گوٹھ کے مکینوں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین(نمائندہ جسارت)بااثر وڈیرے اور پولیس کے خلاف یوسف ملاح گوٹھ کے رہائشی مرد، خواتین اور بچوں کا احتجاجی مظاہرہ ، انتقامی کارروائی اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے کا الزام ۔بدین میں پولیس اور بااثر وڈیرے کے خلاف سیرانی کے قریبی یوسف ملاح گوٹھ کے رہائشی مرد، خواتین اور بچوں نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سیرانی کے مختلف دیہات کے 7 نوجوانوں پر چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گرفتار نوجوان اشرف ملاح کے بھائی ستار ملاح اور بہن سلمیٰ ملاح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی اشرف ملاح کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ جمعے کے روز جیسے ہی وہ سیرانی شہر پہنچا تو سیرانی پولیس نے اسے بغیر کسی تفتیش کے گرفتار کر لیا اور الزام عائد کیا کہ اس نے پیپلز پارٹی کے بااثر وڈیرے حاجی شیر جمالی کی دھان چاول کی چوری کی ہے۔ احتجاج میں شامل اہل خانہ نے کہا کہ اشرف ملاح بے گناہ ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حاجی شیر جمالی نے ہماری زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہمارے بھائی سمیت 7 نوجوانوں الطاف، فیاض، سرور، ریاض، عظیم اور فاروق ملاح پر بھی جھوٹا چوری کا مقدمہ درج کروایا ہے۔ احتجاجی شرکا کا مزید کہنا تھا کہ پولیس دیگر بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری کے لیے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور چادر و چاردیواری کی حرمت پامال کی جا رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے دیہاتیوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، بے گناہ افراد کو بااثر شخصیات کے سیاسی انتقام سے بچایا جائے اور جھوٹے مقدمات واپس لے کر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بااثر وڈیرے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔