data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین(نمائندہ جسارت)بااثر وڈیرے اور پولیس کے خلاف یوسف ملاح گوٹھ کے رہائشی مرد، خواتین اور بچوں کا احتجاجی مظاہرہ ، انتقامی کارروائی اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے کا الزام ۔بدین میں پولیس اور بااثر وڈیرے کے خلاف سیرانی کے قریبی یوسف ملاح گوٹھ کے رہائشی مرد، خواتین اور بچوں نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سیرانی کے مختلف دیہات کے 7 نوجوانوں پر چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس موقع پر گرفتار نوجوان اشرف ملاح کے بھائی ستار ملاح اور بہن سلمیٰ ملاح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی اشرف ملاح کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ جمعے کے روز جیسے ہی وہ سیرانی شہر پہنچا تو سیرانی پولیس نے اسے بغیر کسی تفتیش کے گرفتار کر لیا اور الزام عائد کیا کہ اس نے پیپلز پارٹی کے بااثر وڈیرے حاجی شیر جمالی کی دھان چاول کی چوری کی ہے۔ احتجاج میں شامل اہل خانہ نے کہا کہ اشرف ملاح بے گناہ ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حاجی شیر جمالی نے ہماری زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہمارے بھائی سمیت 7 نوجوانوں الطاف، فیاض، سرور، ریاض، عظیم اور فاروق ملاح پر بھی جھوٹا چوری کا مقدمہ درج کروایا ہے۔ احتجاجی شرکا کا مزید کہنا تھا کہ پولیس دیگر بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری کے لیے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور چادر و چاردیواری کی حرمت پامال کی جا رہی ہے۔ احتجاج کرنے والے دیہاتیوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، بے گناہ افراد کو بااثر شخصیات کے سیاسی انتقام سے بچایا جائے اور جھوٹے مقدمات واپس لے کر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بااثر وڈیرے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار