الاسکا میں 7.0 شدت کے خوفناک زلزلے سے زمین لرز اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
الاسکا(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست الاسکا کے دور دراز پہاڑی علاقے یاکوٹیٹ میں گزشتہ رات گئے 7.0 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس نے زمین کو لرزا کر رکھ دیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین سے صرف 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جس کی وجہ سے دھچکے کی شدت سطح پر کئی گنا زیادہ محسوس کی گئی۔
کئی سیکنڈز تک زمین ہلتی رہی،برف پوش چوٹیاں کانپ اٹھیں اور دور دور تک برفانی تودے گرنے کی آوازیں گون گونجتی رہیں۔
یہ علاقہ الاسکا اور کینیڈا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے جہاں آبادی انتہائی کم ہے، زلزلے کی شدت اتنی شدید تھی کہ لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر پناہ لی۔
اب تک سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی، تاہم الاسکا زلزلہ سینٹر اور پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے سونامی لہریں آسکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔