مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی بلامقابلہ سینیٹر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی سینیٹ کی جنرل نشست پر بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ یہ نشست سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔
عابد شیر علی نے اس نشست کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے تھے، تاہم کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہ آنے کے باعث انتخابی عمل بلا مقابلہ مکمل ہوا، جس سے ان کی سینیٹ میں واپسی کی راہ ہموار ہوگئی۔ پارٹی قیادت نے ان کے انتخاب کو عرفان صدیقی کے انتقال کے بعد ایوانِ بالا میں مسلم لیگ (ن) کی موجودگی کے تسلسل قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے
واضح رہے کہ ممتاز ادیب، کالم نگار، ماہرِ تعلیم عرفان صدیقی رواں ماہ سانس کی تکلیف کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ وہ پاکستان کا معتبر ترین فکری و ادبی اثاثہ سمجھے جاتے تھے۔ ماضی میں وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور بھی رہے اور انہیں ادب و صحافت میں خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔
عرفان صدیقی 2021 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور ایوانِ بالا میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی قائد کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین بھی تھے۔ ان کے اچانک انتقال نے پارلیمانی حلقوں میں گہرا خلا پیدا کردیا، جہاں انہیں ان کی شائستگی، فصاحت اور اصولی سیاسی مؤقف کے باعث خصوصی احترام حاصل تھا۔
مزید پڑھیں:
ان کے انتقال کے بعد سینیٹ نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور قومی مباحثے میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بعدازاں ان کی نشست کو باضابطہ طور پر خالی قرار دیا گیا، جس پر ضمنی انتخاب کا انعقاد کیا گیا اور عابد شیر علی بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔
عابد شیر علی آئندہ چند روز میں حلف اٹھائیں گے اور باقاعدہ طور پر سینیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عابد شیر علی عرفان صدیقی مسلم لیگ کے باعث
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :