ہری پور انتخابی بے ضابطگی کیس ‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو طلب کرلیا۔ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مختلف کیسز کی سماعت 10 دسمبر کو کرے گا، الیکشن کمیشن نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ سابق اپوزیشن لیڈر کی اہلیہ شہر ناز عمر ایوب کی انتخابی بے ضابطگیوں کی درخواست پر بھی سماعت ہو گی، جس میں جعل سازی اور فارم 47 فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ضمنی انتخاب کے نتائج کی فوری دوبارہ گنتی کی درخواست بھی دی گئی تھی جبکہ نتائج کی کنسولیڈیشن کا نوٹس جاری نہ کرنے کے خلاف درخواست بھی دی گئی تھی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی کی ڈی ایم او ایبٹ آباد کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سماعت کے لے مقرر کر دی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے حذیفہ رحمٰن کی ڈی ایم او ڈیرہ غازی خان کے حکم کے خلاف اپیل پر بھی سماعت مقرر کی ہے۔ پی پی269 مظفرگڑھ کے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ری کاؤنٹنگ اور ری پولنگ کی درخواست بھی شامل ہے۔ محمد اقبال کی طرف سے حلقہ269 میں ری رولنگ کی درخواست دائر پر بھی سماعت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کی درخواست بھی سماعت
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔