بایو گیس پر چلنے والی بسوں کی خریداری کا عمل باضابطہ شروع کیا جا رہا ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سندھ کے وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ نے کہا کہ حکومت سندھ پاکستان میں پہلی بار بایو گیس سے چلنے والی بسز چلانے جا رہی ہے، حکومت سندھ کی ترجیح ہے کہ بایو گیس پر چلنے والی بسیں نہ صرف جدید ہوں بلکہ سروس کا معیار بھی بین الاقوامی سطح کا ہو۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کے لیے بایو گیس پر چلنے والی بسوں کی خریداری کا عمل باضابطہ شروع کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن سے ایشین ڈولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے اعلی سطح کے وفد نے کراچی میں ان کے آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ٹرانسپورٹ سے متعلق منصوبوں کی مالی معاونت اور مستقبل کے اہم اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو بھی شریک تھے۔ایشین ڈولپمنٹ بینک کے وفد نے ملاقات کے موقع پر ٹرانسپورٹ کے جاری منصوبوں اور مستقبل میں بھی ٹرانسپورٹ اور موبلٹی کے مزید منصوبوں میں معاونت کی بھی یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پاکستان میں پہلی بار بایو گیس سے چلنے والی بسز چلانے جا رہی ہے، حکومت سندھ کی ترجیح ہے کہ بایو گیس پر چلنے والی بسیں نہ صرف جدید ہوں بلکہ سروس کا معیار بھی بین الاقوامی سطح کا ہو۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بایو گیس پر جو بسیں چلائی جائیں گی وہ نہ صرف ماحول دوست ہونگی بلکہ ہر بس آئی ٹی ایس پر مشتمل ہوگی۔ سندھ کے سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی میں ماحول دوست بسز کے لیے بایو گیس پلانٹ منصوبے پر کام جلد شروع کیا جا رہا ہے، بایو گیس پلانٹ جیسے اقدامات ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے، بایو گیس اور ای وی گاڑیوں سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت سندھ سندھ کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔