پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوووسوبیا نتو موجود تھے۔پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ کر لیا گیا، پاکستانی طلبا کی انڈونیشیا میں اعلیٰ تعلیم کیلئے انڈونیشین ایڈ اسکالر شپ پروگرام پر دستخط کئے گئے۔دونوں ملکوں میں چھوٹے اوردرمیانے کاروبارکی ترقی کیلئے تعاون اور تاریخی دستاویزات اورریکارڈ محفوظ بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔اس کے علاوہ منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مفاہمتی یادداشت، حلال تجارت اورسرٹیفکیشن اور صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشین صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کےتعلقات مزید مضبوط ہوں گے، صدر پرابوووسوبیا نتو انڈونیشیا کے مدبر رہنما ہیں، ان کیساتھ بات چیت انتہائی مثبت اور تعمیری رہی۔وزیراعظم نے کہا کہ باہمی تجارت میں توازن پر بات چیت کی گئی، پاکستانی ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوووسوبیا نتو نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، ہم نے بہت سے شعبوں میں تعاون کےمعاہدوں اور یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، تعلیم ، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انڈونیشیا کے درمیان اور انڈونیشیا کے پاکستان اور میں تعاون

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم