پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی پیشکش قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کی جانب سے دی گئی پیشکش کو پی ٹی آئی نے قبول کر لیا جس میں بانی چیئرمین عمران خان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی پیشکش قبول کر لی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ کی جانب سے دی گئی پیشکش کو پی ٹی آئی نے قبول کر لیا جس میں بانی چیئرمین عمران خان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اکثریتی اراکین نے اس فیصلے کی حمایت کی، ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں پی ٹی آئی کے وکلا، سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رانا ثناءاللہ نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر کمیٹی تشکیل دینے کی پیشکش کی تھی جسے اب پی ٹی آئی کی قیادت نے قبول کرلیا ہے۔ پی ٹی آئی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی رانا ثناءاللہ ہی کریں گے جبکہ پی ٹی آئی کے نمائندے اور وکلاء کمیٹی کے ہمراہ جیل جا کر سہولیات کا براہِ راست جائزہ لیں گے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ انہیں واضح طور پر دکھایا جائے کہ ان کے بانی چیئرمین کو جیل میں کون کون سی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق رانا ثناءاللہ پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی قبول کر
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔