Jasarat News:
2026-07-24@16:03:49 GMT

جھگڑے کے مقاصد

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اس کو نورا کشتی تو نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ لیکن کیونکہ یہ ایک استاد اور اسی کے ہاتھوں پر پلے پلائے ڈھلے ڈھلائے سیاسی گروہ کی لڑائی ہے لہٰذا سوچنا چاہیے کہ کیا یہ ہونا چاہیے؟ کچھ کچھ جیسے نورا کشتی کی سی کیفیت لگتی ہے اور دونوں طرف سے کچھ کچھ مقاصد لگتے ہیں اس لڑائی کے جس کو بہت زیادہ بڑھاوا دیا جا رہا ہے اور دونوں طرف سے الفاظ کا استعمال اور گفتگو نامناسب سی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے، حالانکہ سمجھ میں کچھ نہیں آرہا!! ایک سیاسی جماعت جو کہ اس لڑائی میں ایک فریق ہے اس کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کا ایک بڑا ادارہ اور ان کی سیاسی جماعت کے کچھ لوگ آپس میں لڑ پڑے ہیں یعنی پوری تحریک انصاف لڑائی کرنا نہیں چاہتی صرف کچھ لوگ ہیں۔۔ وہ کیوں لڑ پڑے ہیں؟ اس کی وجہ تو بس یہی سمجھ میں آتی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ یعنی بات اتنی بڑی نہیں تھی کہ اس طرح کے الفاظ اور گفتگو کی جائے، بڑے ادارہ جس کا نام لیتے ہوئے زبان جلتی ہے پر جلتے ہیں انہوں نے بھی جو باتیں کہی ہیں اور ایک جماعت کو ٹارگٹ کیا ہے یہ سیاسی دھول اُڑانے کی کوشش محسوس ہورہی ہے۔ وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ حالات اس طرح کے بنا دیے جائیں کہ سارا کا سارا میڈیا سوشل میڈیا سے لے کے الیکٹرونک میڈیا اسی بات کو لے کر زبردست بحث اور گفتگو شروع کر دیں اور سارے اینکرز ٹاک شوز میں اس بات کے پیچھے پڑ جائیں اور گفتگو کرنے لگیں اس کے مقابلے میں وہ ایک مثبت سیاسی سرگرمی جو ملک میں کی گئی یعنی جماعت اسلامی کا اجتماع عام اس کو کسی بھی فورم کسی بھی پروگرام میں اس طرح گفتگو کا موضوع نہ بنایا جا سکے۔ زرا سوچیں!!

لاہور کا جلسہ عام بہت سارے نکات اپنے اندر رکھتا تھا جس پہ بات کی جانی چاہیے ایک ہی نقطہ دیکھ لیں خواتین کی اتنی بڑی تعداد اپنے آرام دہ گھروں سے نکل کر اس میں شریک ہوئی اور نہ صرف شریک ہوئیں بلکہ کامیاب خواتین کانفرنس منعقد کی جس میں دنیا سے لوگ شریک ہوئے خواتین عملی میدان میں ایک نمایاں کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں مغرب کی گوری نے مشرقی عورت کو زندگی کے وہ ڈھنگ سکھائے، جو وہ بھول رہی تھی کیا یہ نقطہ اہم نہیں؟ دوسرے نکات اس سے بہت زیادہ اہم ہیں انٹر نیشنل سطح پر پوری دنیا کے مسلم راہ نما شریک ہوئے کانفرنس ہوئی۔۔ افراد اتنی بڑی تعدا د میں جس کے بارے میں کہا گیا کہ لاکھوں کی تعداد کا مجمع تھا اور جن کے لیے انتظام کیا گیا تھا ان سے زیادہ تعداد نے شرکت کی۔۔ سردی کا موسم اور وہ بھی لاہور کی سردی لوگوں نے ہنسی خوشی ہنستے کھیلتے برداشت کی کسی قسم کی افراتفری نہیں کوئی چھینا جھپٹی نہیں کوئی مار کٹائی نہیں کوئی ریاست کا اس کی چیزوں کا نقصان نہیں کوئی کوڑا کرکٹ نہیں کسی قسم کی باتا باتی نہیں محبت خلوص اور اعتماد کے ساتھ لوگ جمع ہوئے مختلف صوبوں میں رہنے والے مختلف برادریوں مختلف قبائل کے لوگ ایک چھت کے نیچے کھانا پینا سونا جاگنا وضو اور غسل خانوں کا استعمال۔۔۔ پھر ان کو خوش امدید کہنے والے لاہور کے لوگ جنہوں نے بہت ہی خوش آئند طریقے سے ان کی مہمان نوازی کی، ہر طرح سے خیال رکھا، محبت اور پیار سے دلوں کو موہ لیا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پہ بات کی جانی چاہیے تھی ہلکی پھلکی نہیں۔۔ مختلف زاویوں سے دیر تک اور دور تک۔۔۔ کہ جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہمیشہ سے رہی ہے جو بہت منظم ہے اور اس کے اپنے ہوں یا غیر سب ہی اس بات کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں رکھتے کہ جماعت اسلامی بہت منظم جماعت ہے وہ ہی اتنے بڑے جلسے عام کا بہترین طریقے سے انتظام کرنے کی اہل ہے اور اس پہ میڈیا پہ بات ہونی چاہیے دیگر جماعتوں کو اس سے سیکھنا چاہیے تاکہ وہ بھی جب اپنے پروگرام کریں تو ان کے ہاں بھی وہ عوام کو منظم کریں اور لڑائی جھگڑے ناچ گانے کے بغیر لوگوں کو جمع کر سکیں۔۔ کسی قسم کے پیسے کی لالچ کے بغیر انہیں جمع کر سکیں ہمارے ہاں تو ہر طرح کے سیاسی پروگراموں میں لوگوں کو پیسے دے کر جمع کیا جاتا ہے کوئی دھرنا ہو یا جلسے بعد میں لفافوں کی ویڈیو تصاویر اس کا ثبوت ہے۔ تین دن جماعت اسلامی نے بغیر کسی غیر کی فنڈنگ کے عوامی فنڈ سے اتنا بڑا پروگرام کیا۔

پھر اب مسئلہ یہ ہے کہ حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون میں تمام اختیارات بیوروکریسی اور صوبائی حکومت کو دے دیے گئے ہیں۔ حافظ صاحب نے نواز شریف سے براہ راست سوال کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ کس جمہوری نظام میں غیر جماعتی انتخابات ہوتے ہیں؟؟ انہوں نے ماضی میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی لگایا تھا لیکن اس کے باوجود وہ فارم 47 سے اسمبلی میں آگئے اور پھر وہ نواز شریف سے پوچھتے ہیں کہ بتائیں کہ اگر وہ جمہوریت نواز ہیں تو پنجاب میں گزشتہ 10 برسوں سے بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے؟ اور اب نیا قانون جو بنایا گیا ہے تو اس کے تحت عوام کو مکمل طور پر بے اختیار کر دیا گیا ہے حالانکہ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقل کرنا چاہیے۔

بات یہ ہے کہ نیا قانون دراصل ملک کے نظام پر بیورکریسی اسٹیبلشمنٹ اور خاندانی سیاسی پارٹیوں اور چند جاگیردار اور وڈیروں کا قبضہ مزید مستحکم کرنے کے لیے ہے بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی حقیقی مسائل پر آواز اٹھاتی ہے تو میڈیا پر ٹاک شوز میں پذیرائی نہیں دی جاتی بلکہ ایک ایسے ایشو پر جو بظاہر صرف ملاقات کا معاملہ تھا اور ملاقات کروا کر اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا تھا اس کو میڈیا کی پھکنی سے پھلا کر بڑا بنایا جا تا ہے بلکہ بہت بڑا بنایا جا تا ہے اور پھر اب چوراہوں پر پھوڑا بھی جا رہا ہے سو چھینٹے بھی پڑیں گے اور بدبو بھی ہو گی۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اور گفتگو نہیں کوئی ہے اور ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی