سونے کی قیمت میں اضافہ، چاندی کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 500 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 43 ہزار 562 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی اور پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاندی کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 5 ڈالر کے اضافے سے 4 ہزار 212 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 500 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 43 ہزار 562 روپے کی سطح پر آگئی۔ جس کے بعد فی 10 گرام سونے کی قیمت 428 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 80 ہزار 282 روپے کی سطح پر آگئی۔ سی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 85 روپے کے اضافے سے 6 ہزار 452 روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 73 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 531 روپے کی بلند ترین سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کے اضافے سے سونے کی قیمت کی سطح پر روپے کی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔