برطانیہ میں موجود اشتہاریوں کو پاکستان لانے کی کوشش کررہے ہیں، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ برطانیہ میں موجود اشتہاری پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بیرون ملک موجود یوٹیوبرز کی جانب سے جھوٹا بیانیہ بیچا جاتا ہے، یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جس پر انہیں سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اورعادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کردیا
انہوں نے کہاکہ برطانیہ کی اعلیٰ عدالتوں نے ان لوگوں کو جھوٹا قرار دے کر ان کے خلاف فیصلے سنائے ہیں۔
وفاقی وزیر مملکت نے کہاکہ ان لوگوں کی وجہ سے برطانیہ کی شہرت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، پاکستان ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ ان لوگوں کو واپس لانے کے لیے پاکستان کا ہر متعلقہ ڈپارٹمنٹ اپنا کام بھرپور ذمے داری کے ساتھ کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ان لوگوں نے اب سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز ڈیلیٹ کرنا شروع کردی ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورہ برطانیہ کے دوران اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے دوران یہ اہم معاملہ اٹھایا تھا، تاہم برطانیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی گرین سگنل نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیں: عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف زہر اگلنے، بے بنیاد الزامات لگانے کا اعتراف کرلیا
پاکستان کو اس وقت عمران خان کے مشیر رہنے والے شہزاد اکبر، عادل راجا، معید پیرزادہ سمیت دیگر لوگوں کی تلاش ہے، جو برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیرون ملک اشتہاری شہزاد اکبر طلال چوہدری عادل راجا وزیر مملکت داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرون ملک اشتہاری شہزاد اکبر طلال چوہدری وزیر مملکت داخلہ وی نیوز طلال چوہدری نے کہاکہ ان لوگوں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔