ایچ ای سی کا بلوچستان کے طالب علموں کیلیے اسکالر شپس کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251215-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بلوچستان کے ہونہار طالب علموں کے لیے ایل ایل ایم و پی ایچ ڈی اسکالر شپس کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان کے طالب علموں کو ملکی جامعات میں ایل ایل ایم اور بیرون ملک ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی اسکالر شپس دی جائیں گی ، اس کے لئے ضروری ہے کہ امیدوار کے پاس بلوچستان کا ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ ہو۔ ایل ایل ایم کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سال جبکہ پی ایچ ڈی کے لیے 35 سال مقرر کی گئی ہے۔ امیدواروں کے لیے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی تکمیل اور 50 فیصد نمبر ضروری قرار دیے گئے ہیں جبکہ اپٹیٹیوٹ ٹیسٹ میں 50 فیصد نمبر ضروری ہیں، درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 جنوری 2026 ء مقرر کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی جامعات اور اداروں میں ایل ایل بی ڈگری پروگرام میں داخلے کے لیے لا ایڈمیشن ٹیسٹ شیڈول بھی جاری کردیا ہے جس کے مطابق درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 29 دسمبر 2025 مقرر کی گئی ہے جبکہ ٹیسٹ 25 جنوری 2026 کو ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایل ایل ایم کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔