Jasarat News:
2026-07-24@01:46:37 GMT

ایوان میں گرے نوٹ اور اٹھتے ہوئے سوالات

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عبد الرشید اعوان
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ وہ اعلیٰ قانون ساز ادارہ جس کے اراکین پر آئین کی دفعات 62 اور 63 کے تحت صداقت اور امانت بنیادی شرائط ہیں گزشتہ روز ایک ایسے واقعے کا گواہ بنی جس نے نہ صرف ایوان، بلکہ پورے جمہوری نظام کے وقار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اجلاس کے دوران فلور سے کچھ گرے ہوئے کرنسی نوٹ کی ملنے اطلاع ملی۔ اسپیکر نے رقم اُٹھا کر باقاعدہ اعلان کیا کہ جس رکن کی یہ رقم ہو وہ آگے بڑھے۔ چند لمحوں کے اندر بارہ اراکین نے اس رقم پر اپنا حق جتایا۔ یہ منظر ایوان کی روایت، پارلیمانی تہذیب اور عوامی اعتماد کے بالکل برعکس محسوس ہوا۔

ایوان میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باعث یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ حقیقت جاننا مشکل نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود متعدد اراکین کا ایک ہی رقم کی ملکیت کا دعویٰ کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اخلاقی معیار پر بھی کاری ضرب ہے۔ ایسے میں لازمی سوال اٹھتا ہے کہ اگر معمولی رقم کے معاملے میں وضاحت اور دیانت مشکوک ہو جائے تو بڑے قومی فیصلوں میں اعتماد کس بنیاد پر قائم رہے گا؟

یہ واقعہ اس وسیع تر مسئلے کی علامت ہے جس کا سامنا ملکی سیاست کو طویل عرصے سے ہے یعنی اخلاقی زوال، جماعتی نظم میں کمزوری، اور پارلیمانی ضابطوں کی مسلسل پامالی۔ اسی لیے یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس رویے پر کارروائی کون کرے گا؟ سیاسی جماعتیں جن کے پلیٹ فارم سے یہ اراکین منتخب ہو کر آئے؟ یا خود پارلیمانی قیادت جو ایوان کے تقدس کی ذمہ دار ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی منتخب ایوان کا وقار اس کے اراکین کے کردار سے قائم رہتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش پیدا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں، ذمے داری کا تعین کیا جائے، اور واضح اصول طے کیے جائیں تاکہ ایوان کا تقدس برقرار رکھا جا سکے۔ قومی سیاست کو اس وقت سنجیدگی، شفافیت اور اخلاقی بالادستی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم معمولی ترین آزمائشوں میں بھی اپنی ساکھ کھو دیں تو بڑے قومی معاملات میں استحکام کیسے ممکن ہوگا؟

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی