data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شرحِ سود کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔

اجلاس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا، جس کے اثرات نہ صرف مالیاتی منڈیوں بلکہ عام صارف، صنعت، کاروبار اور سرمایہ کاری پر بھی مرتب ہوں گے۔

سرمایہ کاروں، بینکنگ سیکٹر اور کاروباری حلقوں کی نظریں اس اجلاس پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ شرحِ سود میں معمولی رد و بدل بھی معیشت کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسٹیٹ بینک نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل مئی 2025 میں مرکزی بینک نے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے شرحِ سود کو 11 فیصد تک لانے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اب تک مسلسل چار جائزوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اس پالیسی کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا بتایا گیا تھا۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں افراطِ زر کی رفتار میں نسبتاً کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مہنگائی اب بھی ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خوراک، توانائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں اگرچہ کچھ حد تک مستحکم ہوئی ہیں، مگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے ممالک کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی پاکستان کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ افراطِ زر کو مکمل طور پر قابو میں لانے اور شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی ریٹ میں قبل از وقت نرمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں آج کے اجلاس میں آئی ایم ایف کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، کیونکہ پاکستان اس وقت ایک وسیع تر معاشی فریم ورک کے تحت اصلاحاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔

کاروباری حلقوں کی رائے اس معاملے میں منقسم دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف صنعتکار اور تاجر شرحِ سود میں کمی کے خواہاں ہیں تاکہ قرضے سستے ہوں، سرمایہ کاری بڑھے اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے۔ دوسری طرف ماہرین معیشت خبردار کرتے ہیں کہ اگر مہنگائی کے مکمل طور پر قابو میں آنے سے پہلے شرحِ سود کم کی گئی تو قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہری پر پڑے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ