ڈگری کیس کی غیر معمولی سماعت:جسٹس طارق جہانگیری کا چیف جسٹس پر اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعلیمی اسناد سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران غیر معمولی صورت حال رہی۔
اہم کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کی، تاہم کارروائی کے آغاز پر ہی ماحول غیر معمولی طور پر کشیدہ ہو گیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عدالتی آداب کا حوالہ دیتے ہوئے وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری خود عدالت میں موجود ہیں، اس لیے نظم و ضبط برقرار رکھا جائے۔ اس موقع پر جسٹس طارق محمود جہانگیری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ انہیں جمعرات کے روز نوٹس موصول ہوا، حالانکہ قانون کے مطابق پورا ریکارڈ فراہم کیا جانا لازم تھا، جو انہیں نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کیس کا مکمل ریکارڈ چاہیے اور وہ اس بینچ پر اعتراض رکھتے ہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ وہ اور چیف جسٹس دونوں ایک ہی عدالت کے جج ہیں اور چیف جسٹس کے خلاف ان کی اپیل زیر التوا ہے، اس لیے چیف جسٹس کا اس بینچ میں بیٹھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے عدالت سے کہا کہ ان کا اعتراض ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے کیونکہ ان کا ڈویژن بینچ کے سامنے کو وارنٹو سننے کا آئینی حق متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سنے بغیر کام سے روک دیا گیا حالانکہ سپریم کورٹ کی ہدایت تھی کہ پہلے درخواست قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے مزید کہا کہ سوا سال پرانی درخواست پر محض 3 دن کا نوٹس دینا بھی غیر معمولی اقدام ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’یہ پنڈورا باکس نہ کھولیں، سب کی پگڑیاں اچھلیں گی‘‘ اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر یقین دہانی کرائی کہ ان کی ڈگری بالکل اصلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بینچ پر اعتماد نہیں، اس لیے کیس کسی اور بینچ کو منتقل کیا جائے اور انہیں جواب داخل کرنے کے لیے مناسب مہلت دی جائے۔
عدالت نے اس موقع پر کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ طلب کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ جسٹس طارق جہانگیری کو تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کی جائیں۔
درخواست گزار کی جانب سے کیس روزانہ کی بنیاد پر چلانے کی استدعا کی گئی، تاہم جسٹس طارق جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ وقت انتہائی کم ہے، انہیں تیاری کے لیے مزید مہلت دی جائے۔ صدر اسلام آباد بار نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ ہر معاملہ قانون اور ضابطے کے مطابق چلنا چاہیے اور فوری فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
سماعت کے دوران جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جوڈیشل ہسٹری میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی جج کو اعتراض والے کیس میں کام سے روک دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈگری سے متعلق معاملے میں سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی معطلی دے چکی ہے اور کراچی یونیورسٹی نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ ان کی ڈگری جعلی ہے۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ جسٹس جہانگیری ان کے کولیگ ہیں اور انصاف انہیں بھی وہی ملے گا جو کسی اور کو ملتا ہے۔
آخرکار عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس طارق جہانگیری نے غیر معمولی چیف جسٹس انہوں نے کہ انہیں کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔