data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے مفرور انسانی اسمگلرز کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایف آئی اے کی درخواست پر انٹرپول کے ذریعے پاکستان کے 30 مفرور انسانی اسمگلرز کے ریڈ وارنٹ جاری کروا لیے گئے ہیں، جسے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق جن 30 انسانی اسمگلرز کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، وہ مختلف عرصے سے بیرون ملک روپوش تھے اور منظم انداز میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس چلا رہے تھے۔

یہ عناصر دبئی، لیبیا، مصر اور قطر جیسے ممالک میں سرگرم رہے، جہاں سے غیر قانونی طریقوں سے پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کے نیٹ ورکس چلائے جاتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ایف آئی اے کی ریڈ بک میں بھی شامل تھے اور ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ مفرور اسمگلرز معصوم اور کمزور شہریوں کو بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر بھاری رقوم وصول کرتے رہے جب کہ کئی کیسز میں متاثرہ افراد نہ صرف مالی نقصان کا شکار ہوئے بلکہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ وارنٹس کے اجرا کے بعد اب ان افراد کی گرفتاری اور پاکستان حوالگی کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ انٹرپول کے ذریعے متعلقہ ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی اس کارروائی میں شریک ہوں گی۔

ایف آئی اے کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف صرف گرفتاریوں تک محدود نہ رہنے بلکہ بین الاقوامی سطح پر نیٹ ورکس توڑنے کی حکمت عملی بھی اختیار کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ایف آئی اے نے تین اہم ممالک میں اپنے لنک دفاتر قائم کر دیے ہیں۔

ادارے کے مطابق عمان کے دارالحکومت مسقط، ایران کے دارالحکومت تہران اور یونان کے شہر ایتھنز میں لنک دفاتر فعال کر دیے گئے ہیں، جن کا مقصد انسانی اسمگلنگ کے راستوں، سہولت کاروں اور مالی نیٹ ورکس پر براہ راست نظر رکھنا ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان لنک دفاتر کے قیام سے نہ صرف بروقت معلومات کا تبادلہ ممکن ہوگا بلکہ مقامی حکام کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں بھی کی جا سکیں گی۔ حکام کے مطابق انسانی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی جرم ہے جس میں مختلف ممالک شامل ہوتے ہیں، اس لیے عالمی تعاون کے بغیر اس لعنت کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں ان لنک دفاتر کو ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے آئندہ دنوں میں مزید ممالک میں بھی اپنے روابط مضبوط بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہ رہے۔

ادارے کے مطابق انسانی اسمگلنگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ یہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف جرم ہے، جس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایف آئی اے کے اس تازہ اقدام کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی سنجیدہ اور مضبوط حکمت عملی کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ کے خلاف حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے لنک دفاتر نیٹ ورکس کے مطابق

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق