لاہور میں شہری کے 5 لاکھ روپے پولیس نے 30 منٹ میں برآمد کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
لاہور میں گلبرگ پولیس نے شہری کے 5 لاکھ روپے محض 30 منٹس میں برآمد کر لیے۔
ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان کے مطابق گلبرگ پولیس کو پیسے گم ہونے کے متعلق 15 کال موصول ہوئی۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی۔
شہری شادی کے فنکشن کیلئے 5 لاکھ روپے گھر لیے کر جا رہا تھا، ظہور الٰہی روڈ پر گاڑی سے اترنے ہوئے رقم روڈ پر گر گئی۔
سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے رقم اٹھانے والے مزدور کو تلاش کر لیا گیا اور 5 لاکھ رقم درخواست گزار شایان شاہ کے سپرد کر دی گئی۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے اے ایس آئی محمد منشاء و ٹیم کو شاباشی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔