200 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
قومی بچت مرکز نے آج 200 روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا، جس میں پہلا انعام جیتنے والے خوش نصیب کو 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم ملے گی۔قرعہ اندازی کے مطابق پرائز بانڈ نمبر 758760 نے پہلا انعام جیتا، دوسرا انعام فی کس 2 لاکھ 50 ہزار روپے پانچ خوش نصیب افراد کو ملا جن کے بانڈ نمبرز 033045, 487574, 694350, 837177 اور 877428ہیں۔یہ قرعہ اندازی قومی بچت مرکز کی نگرانی میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق منعقد کی گئی، تیسرا انعام 1,250 روپے فی کس ہے، جو کہ ملک بھر سے 2,394 افراد کو دیا جائے گا۔واضح رہے کہ 200 روپے مالیت کے پرانڈ کا پہلا انعام ایک خوش نصیب کو 750,000 روپے، دوسرا انعام پانچ افراد کو فی کس 250,000 روپے اور تیسرا انعام 2,394 افراد کو فی کس 1,250 روپے ملتا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ پرائز بانڈز ملک میں ایک مقبول سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، یہ بانڈز مختلف مالیت میں دستیاب ہوتے ہیں جن کا آغاز 100 روپے سے ہوتا ہے، بانڈز کو سٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں، اور قومی بچت مراکز سے شناختی کارڈ کے ہمراہ درخواست فارم کے ذریعے خریدا اور کیش کروایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔