غزہ میں فوج بھیجنے کی خبروں پر اسحاق ڈار کی وضاحت، تصدیق سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوجی دستے بھیجنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حتمی حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان صرف اس صورت میں غزہ میں کردار ادا کر سکتا ہے جب اقوامِ متحدہ کے تحت قیامِ امن کے لیے واضح مینڈیٹ موجود ہو۔ تاہم پاکستان نہ تو حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل کا حصہ بنے گا اور نہ ہی سرنگوں کو تباہ کرنے جیسی کارروائیوں میں شامل ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا کرنا ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خلاف کھڑا کرنے کے مترادف ہوگا، جو پاکستان کے اصولی مؤقف کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ساڑھے تین ہزار فوجی غزہ بھیج رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور واضح اتفاقِ رائے موجود ہے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی میں شامل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایسا اس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
نائب وزیراعظم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ممکنہ کردار صرف اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں امن مشن، انسانی ہمدردی، سماجی معاونت اور امدادی سرگرمیوں تک محدود ہو سکتا ہے۔ کسی مسلح گروہ کو غیر مسلح کرنا، اسلحہ واپس لینا یا زیرِ زمین سرنگوں کو نشانہ بنانا پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا جس میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خلاف لڑایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ پاکستان اسحاق ڈار کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔