لائشیاء :کرپشن الزامات پر آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا،تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور( مانیٹرنگ ڈیسک)ملائیشیا کے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو کرپشن اور منی لانڈرنگ الزامات کی تحقیقات تک رخصت پر بھیج دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی وزارتِ دفاع نے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو فوری طور پر رخصت پر بھیجنے کی ہدایت جاری کر دی۔مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب سماجی کارکن بدر الحشام شہران المعروف
چیگو برد نے مسلح افواج کے ایک سینئر افسر پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔جس کے بعد ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے سربراہ تن سری اعظم باقی نے بھی تصدیق کی کہ ایکٹ 2009 کی دفعہ 17(a) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ایم اے سی سی کے افسران نے فوج کے تحت ہونے والے پروکیورمنٹ منصوبوں خصوصاً اوپن ٹینڈر کے ذریعے کیے گئے منصوبوں کی باریکی سے جانچ پڑتال کی۔جانچ پڑتال میں 2023 سے 2025 کے درمیان 5 لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کے 158 منصوبے اور اس حد سے کم مالیت کے 4,521 منصوبے سامنے آئے ہیں۔ابتدائی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ چند کمپنیاں بار بار اعلیٰ مالیت کے ٹھیکے حاصل کر رہی تھیں جس پر تفتیشی افسران نے خدشات کا اظہار کیا۔24 دسمبر تک ایم اے سی سی نے تین اعلیٰ فوجی افسران سے پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین کی جائے گی۔جس کے بعد تازہ پیشرفت میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو جبری رخصت پر اس لیے بھیجا گیا تاکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ان پر عائد الزامات کی تحقیقات بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کی جا سکیں۔وزیرِ دفاع داتوک سری محمد خالد نوردین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتظامی اقدام مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے اور تحقیقات کے شفاف اور مؤثر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔علاہ ازیں جنرل تن سری محمد نظام جعفر کی لازمی ریٹائرمنٹ کے بعد نیوی کمانڈر ایڈمرل تن سری ذوالحلمی اثنین کو فوری طور پر ملائیشین مسلح افواج کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔