سکھ فارجسٹس کا بھارت میں مسیحیوں کیلیے محفوظ وطن کا مطالبہ ،نقشہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک )سکھ فار جسٹس تنظیم کی جانب سے بھارت میں عیسائیوں کے لیے محفوظ وطن ’’ٹرمپ لینڈ‘‘ کا مطالبہ سامنے آ گیا۔اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے تحت سکھ فار جسٹس تنظیم نے شمال مشرقی بھارت میں ایک محفوظ عیسائی وطن ’’ٹرمپ لینڈ‘‘ کا نقشہ جاری کردیا ہے۔ سکھ فار جسٹس جو عالمی خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کر رہا ہے ، نے باضابطہ طور پر ’’ٹرمپ لینڈ ‘‘ کی تجویز پیش کی ہے۔تنظیم کے مطابق یہ مجوزہ خطہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے امریکی صدر سے اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کی اپیل بھی کی ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ جب دنیا کرسمس منا رہی تھی، اس وقت بھارت میں عیسائی برادری کو منظم تشدد، حملوں اور جبر کا سامنا تھا۔ مودی کے دور حکومت میں نہ صرف عیسائیوں بلکہ بھارتی پنجاب میں سکھوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ’’سیون سسٹرز اسٹیٹس‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں عیسائی آبادی مقامی اور تاریخی طور پر علیحدہ ہیں۔ سیون سسٹر اسٹیٹس ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، منی پور، تریپورہ اور آسام اور اکثریتی عیسائی آبادی پر مشتمل ہیں۔ ’’ٹرمپ لینڈ‘‘ کو ایک محفوظ عیسائی کوریڈور کے طور پر تجویز کیا گیا ہے تاکہ لاکھوں عیسائیوں کو پناہ دی جا سکے۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ یہ عیسائی آبادی اس وقت ظالم بھارتی ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ مودی کے بھارت میں بائبل کی تبلیغ جرم ،گرجا گھروں کو نذر آتش، عیسائی بستیوں پر حملے جب کہ لوگوں کو بے گھر اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکھ فار جسٹس بھارت میں ٹرمپ لینڈ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔