Jasarat News:
2026-07-24@05:49:07 GMT

وقت کی دستک، واپسی کا لمحہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251228-03-4

 

دلشاد عالم

عیسوی سال 2025 اپنی تمام تر یادوں، خوشیوں، لغزشوں، کامیابیوں اور تلخیوں کو سمیٹے ہوئے رخصت ہورہا ہے اور 2026 خاموشی کے ساتھ ہماری زندگی کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، یہ دستک محض ایک عدد کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کو جھنجھوڑنے والا پیغام ہے، کیونکہ سال کا آنا جانا کوئی نیا واقعہ نہیں، یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے، قرآن ہمیں متوجہ کرتا ہے: ’’یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، وقت کبھی ایک حال پر نہیں ٹھیرتا، انسان مگر غفلت میں مبتلا رہتا ہے‘‘، سیدنا آدمؑ سے لے کر خاتم النبیینؐ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رُسل ؑ تشریف لائے، سب نے یہی پیغام دیا کہ دنیا عارضی ہے اور آخرت دائمی، سیدنا نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال قوم کو سمجھایا مگر جب مہلت پوری ہوئی تو طوفان آیا اور سب کچھ بہا لے گیا، یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کی دی ہوئی مہلت ہمیشہ باقی نہیں رہتی، سیدنا عادؑ اپنی قوت پر نازاں تھے، قرآن کہتا ہے: وہ کہتے تھے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے، مگر تیز آندھی نے ان کے محلات، ان کے جسم، ان کا غرور سب مٹی میں ملا دیا، ثمود نے پہاڑ تراش کر گھر بنائے، وقت کو فتح کرنے کا گمان کیا، مگر ایک چیخ نے ان کے وقت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا، فرعون نے کہا: میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں، سال ہا سال حکومت کی، دریا اس کے حکم پر چلتے نظر آئے، مگر جب وقت آیا تو وہی دریا اس کی قبر بن گیا، نمرود نے سیدنا ابراہیمؑ سے ربّ کے بارے میں مناظرہ کیا، زندگی اور موت کا دعویٰ کیا، مگر ایک معمولی مچھر اس کے غرور کا خاتمہ بن گیا، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت، حکومت اور وقت کسی کے تابع نہیں ہوتے بلکہ سب اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔

رسول اللہؐ نے فرمایا: دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راہ چلتا شخص، مسافر کبھی راستے کو منزل نہیں سمجھتا، مگر ہم ہر آنے والے سال کو گویا ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھ لیتے ہیں، نبی کریمؐ نے قبر کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اور ہر نیا سال ہمیں اسی منزل کے قریب لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ ہم جشن مناتے ہیں اور حقیقت بھول جاتے ہیں، سیدنا عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے: اپنے آپ کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ قرآن قوموں کے عروج و زوال کو بار بار بیان کرتا ہے اور کہتا ہے: اے آنکھوں والو عبرت حاصل کرو، وقت بدلتا ہے، ماحول بدلتا ہے، تہذیبیں بدلتی ہیں، سلطنتیں بنتی اور مٹتی ہیں، مگر اللہ کا قانون نہیں بدلتا، اصل کامیاب قومیں وہ ہیں جو گزرتے وقت سے سبق لیتی ہیں اور آنے والے وقت کو بہتر بناتی ہیں، جو زندگی کو محض کھانے پینے اور دنیا کمانے تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ خیر، عدل، تقویٰ اور سلامتی کو اپنا شعار بناتی ہیں، ہمیں یہ حقیقت دل سے مان لینی چاہیے کہ جو وقت گزر گیا وہ بظاہر طویل لگتا ہے مگر پل بھر میں ختم ہوگیا، اور جو باقی ہے وہ اس سے بھی زیادہ مختصر ہے، نبی کریمؐ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، صحت اور فراغت، ہر نیا سال ہماری عمر میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کا اعلان ہے، سانسوں کی گنتی کم ہو رہی ہے، قبر قریب آ رہی ہے، اور نامہ اعمال بند ہونے کا وقت بھی قریب ہے، سال کا بدلنا دراصل ایک خاموش اعلان ہے کہ ابھی مہلت باقی ہے، ابھی درِ توبہ بند نہیں ہوا، قرآن کہتا ہے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یہی پیغام ہر آنے والا سال ہمیں دیتا ہے کہ ابھی واپسی ممکن ہے، ابھی زندگی سنور سکتی ہے، ابھی اللہ کی طرف پلٹنے کا وقت ہے، اور پھر وہ آخری لمحہ، وہ آخری گھڑی، وہ آخری سانس جس کے بعد نہ سال باقی رہے گا نہ وقت۔

ذرا تصور کیجیے وہ منظر جب آنکھیں بند ہوں گی، سانس اکھڑ رہی ہوگی، زبان خاموش ہوگی، عزیز و اقارب سرہانے کھڑے ہوں گے مگر کوئی ایک لمحہ نہیں بڑھا سکے گا، نہ 2025 یاد آئے گا نہ 2026، نہ عہدے کام آئیں گے نہ دولت، بس ایک سوال دل کو چیر دے گا کہ اے ربّ میں تیرے حضور کیا لے کر آیا ہوں، کاش ہم اس دن سے پہلے رو لیں جب آنسو بے فائدہ ہوجائیں، کاش ہم آج پلٹ آئیں جب واپسی کا دروازہ کھلا ہے، کاش ہم سجدے میں گر کر کہہ دیں اے اللہ میں تھک گیا ہوں، میں بھٹک گیا تھا، اب تیرے سوا کوئی نہیں، کیونکہ قبر کی اس تنہائی میں نہ کوئی سال ہمارا ہوگا نہ کوئی سہارا، صرف ہم ہوں گے اور ہمارے اعمال۔ اے دل! اگر آج یہ سطور پڑھ کر آنکھ نم ہو جائے، اگر سینہ بوجھل ہو جائے، اگر دل کانپ اٹھے تو یہی اللہ کی رحمت ہے، اسی آنسو کو اپنی نجات کا وسیلہ بنا لو، اسی لمحے کو اپنی زندگی کا موڑ بنا لو، کیونکہ جو آنسو آج اللہ کے خوف سے بہتے ہیں، وہی کل جہنم کی آگ کو بجھا دیں گے، اور یہی وقت کی دستک کا اصل مقصد ہے کہ انسان جاگ جائے، پلٹ آئے اور اللہ کی طرف لوٹ جائے۔

 

دلشاد عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اللہ کی

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف