’’کراچی کے مسائل کا حل مصنوعی ذہانت کے ذریعہ‘‘
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-03-5
الطاف شکور
کراچی کے دیرینہ شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقے ناکام ہوچکے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی شہری ڈیش بورڈز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم یعنی موبائل فون ایپلی کیشن کو اختیار کیا جائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی اہم مسئلے کے حل کے لیے کوئی شہری درخواست میئر کے دفتر یا کسی اور محکمے میں جمع کرائے تو وہ افسر یہ درخواست اپنے ماتحت افسر کو مارک کر کے آگے بھیج دے گا۔ پھر وہ ماتحت افسر اپنے ماتحت افسر کو اس طرح وہ درخواست کم از کم تین سے چار افسروں تک مارک کر کے گردش میں رہے گی۔ اگر درخواست گزار کچھ عرصہ کے بعد اپنی درخواست کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اس دفتر میں جائے گا تو وہ افسر سائل کو اپنے ماتحت افسر اور وہ ماتحت افسر اپنے ماتحت افسر کے دفتر میں بھیج کر اپنی جان چھڑا لے گا۔ یہاں تک انتہائی قلیل عرصہ میں وہ بے چاری اور لاچار درخواست افسر شاہی کے دفاتر کی بھول بھلیوں میں کہیں گم ہوجائے گی اور عوام کا مسئلہ جوں کا توں باقی اور وہیں کا وہیں رہ جائے گا۔
کراچی جو کبھی منی پاکستان اور روشنیوں کے شہر کے طور پر مشہور تھا اب اس کی حالت موئن جوڈرو سے بھی بدتر ہوچکی ہے۔ موئن جودڑو، جو سندھی زبان میں ’’مردوں کا ٹیلہ‘‘ کہلاتا ہے، وادی سندھ کی ایک قدیم اور بڑی تہذیب کا اہم شہر تھا جو تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک عروج پر رہا۔ موئن جوڈرو کانسی کے دور کا ایک جدید، منظم اور عظیم شہری مرکز تھا جس میں بہترین شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کے عظیم نظام پر مبنی ڈھانچے موجود تھے۔ اس کے باشندے عراق اور مصر جیسے قدیم باشندوں سے تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔ 1700 قبل مسیح نامعلوم وجوہات کی بناء پر شہر تباہ اور زمین کے اندر دفن ہوگیا تھا۔ ماضی کا یہ شہر موئن جوڈرو قدرتی تباہی کے بعد بھی آج کے کراچی سے بہتر حالت میں موجود ہے۔
کراچی کا شہری بحران کسی بحث کا موضوع نہیں بلکہ شہریوں کی روز مرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، کوڑے کے ڈھیر، پانی کی قلت، سیوریج کے مسائل، ٹریفک جام، تجاوزات اور ناکارہ پبلک ٹرانسپورٹ کراچی کی پہچان بنتی جا رہی ہیں۔ مسئلہ قوانین یا اداروں کی کمی نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم، ناقص رابطہ کاری اور شہر کے نظام سے متعلق درست اور واضح معلومات کے فقدان کا ہے۔ ایسے حالات میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی شہری ڈیش بورڈز کوئی خیالی یا مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک عملی اور قابل ِ عمل حکمرانی کا آلہ ہیں، جو کراچی کو قابل ِ پیمائش، قابل ِ مشاہدہ اور قابل ِ انتظام بنا سکتے ہیں۔ یہ ڈیش بورڈز مختلف محکموں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کر کے فیصلہ سازی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ سندھ حکومت، سٹی گورنمنٹ، کنٹونمنٹ بورڈز اور تمام شہری ادارے کراچی کے اجتماعی مفاد میں اے آئی پر مبنی شہری ڈیش بورڈز کو اپنے نظام کا حصہ بنائیں۔ چند بنیادی خدمات جیسے صفائی، پانی، سڑکیں اور اسٹریٹ لائٹس پر توجہ دی جائے اور ہفتہ وار یا پندرہ روزہ بنیاد پر ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اے آئی ڈیش بورڈز کا مطلب کوئی روبوٹ میئر یا خودکار سسٹم نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو شہری شکایات اور سروس ڈیٹا میں موجود رجحانات کی نشاندہی کرے۔ بار بار پیدا ہونے والے مسائل کو اُجاگر کرے۔ کوڑے کے مستقل ڈھیروں یا سیوریج اوور فلو جیسی جگہوں کی پیش گوئی کرے اور مسائل کی شدت، دورانیے اور متاثرہ آبادی کی بنیاد پر ترجیحات طے کرے۔
اس وقت کراچی میں بلدیاتی نظام انتہائی منتشر ہے۔ کے ایم سی، ڈی ایم سیز، کنٹونمنٹ بورڈز، صوبائی محکمے اور یوٹیلیٹی ادارے اپنے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں، جس کے باعث ذمے داری کا تعین ممکن نہیں رہتا۔ اے آئی ڈیش بورڈز اس انتشار کو ختم تو نہیں کریں گے لیکن اسے بے نقاب ضرور کریں گے۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ مسئلہ کہاں ہے، کس محکمے کی ذمے داری ہے اور کب سے حل طلب ہے؟ موجودہ شکایتی نظام محض نمائشی ہے۔ شہری شکایت درج تو کراتے ہیں مگر اس کے حل اور تصدیق کا کوئی شفاف نظام موجود نہیں۔ اے آئی کے ذریعے کوڑے کے مستقل مراکز، پانی کی قلت، لیکیجز، سیوریج مسائل، سڑکوں کی حالت، بار بار کھدائی، تجاوزات، ٹریفک حادثات اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلا جیسے مسائل کا مسلسل تجزیہ ممکن ہے۔ اس سے سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے عوامی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں گے۔ یہ اعتراض بے بنیاد ہے کہ کراچی میں ایسے نظام چلانے کی صلاحیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں حکمرانی کمزور ہو وہاں ایسے نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ شفافیت پیدا کرتے ہیں، اختیارات کو محدود کرتے ہیں اور میڈیا، عدلیہ اور سول سوسائٹی کو جواب دہی کا موقع دیتے ہیں۔ اے آئی نگرانی نظام کی بدولت منصوبے افتتاح کے بعد فراموش نہیں ہوں گے، ناکامیاں تبادلوں سے ختم نہیں ہوں گی اور ڈیٹا کی بنیاد پر بجٹ، منصوبہ بندی اور احتساب ممکن ہو سکے گا۔ اس نظام کی بدولت شہری احتجاج کے بجائے شمولیت اور حکمرانی سفارش کے بجائے شواہد پر منتقل ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپنے ماتحت افسر ڈیش بورڈز نہیں بلکہ بنیاد پر اے ا ئی
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :