حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کریں‘پیشگی شرائط عاید نہ کریں‘لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-08-22
لالہ موسیٰ/ گجرات(جسارت نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، صدر مجلس قائمہ سیاسی قومی امور لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کریں، پیشگی شرائط عاید نہ کریں،مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومتوں کے ذریعے صوبائی تعصبات کا کھیل نہ کھیلیں۔ لیاقت بلوچ نے لالہ موسیٰ گجرات میں امیر صوبہ پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم کے ہمراہ اجتماعِ عام سے خطاب کیا اور ضلعی ذمے داران کے ساتھ مشاورت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے 30 دسمبر 2025ء کو پنجاب بھر کے صوبائی،حلقہ جات اور ضلعی ذمے داران کا گرینڈ کنونشن طلب کرلیا ہے، پنجاب میں بلدیاتی کالے قانون کے خاتمے،بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام اور عوام کو بااختیار بنانے کے لیے ‘‘بدل دو نظام’’ کے اگلے مراحل کا لائحہ عمل بنایا جائے گا، پنجاب پاکستان کے سیاسی میدان کا اہم ترین صوبہ ہے، اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب کے چند خاندانوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مفادپرست گروہوں کو مفادات اور اقتدار کے لالچ میں جمع کرکے پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو محرومیوں کا شکار کیا ہے اور اِن نااہل حکمران گروہوں نے پنجاب کو بدنامیاں دی ہیں،پنجاب کو سیاسی بدنامیوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے جماعت اسلامی پنجاب کے عوام کی ترجمان اور پنجاب کو قومی وحدت،تعمیر و ترقی اور تمام صوبوں کے لیے محبت و اخوت کا مرکز بنانے کے لیے ہراوّل دستے کا کردار ادا کرے گی،پنجاب کے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے،ملک مستحکم اور بحرانوں سے نجات پائے گا۔لیاقت بلوچ نے سوالات کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی وفاق اور صوبوں میں حکمران جماعتیں ہیں لیکن تینوں جماعتیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبوں میں عوام کو بااختیار بلدیاتی نظام نہیں دے رہے، عرصہ دراز سے اقتدار کے مزے لْوٹنے والی یہ تینوں جماعتیں حکمرانی کے ہر قیمت پر طلب گار ہیں لیکن عوام کو بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں ،برطانوی حکومت سے قانون کی پابندی اور عملدرآمد کا مطالبہ کرنے والے خود تو پاکستان میں آئین و قانون کی پابندی اور آزاد عدلیہ کی اہمیت کو تسلیم کریں۔لیاقت بلوچ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پنجاب آمد پر صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں وزرائے اعلیٰ، سیاسی قیادت کو آزادانہ نقل و حرکت اور آئین،قانون، جمہوری روایات کی پابند سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے،صوبائی حکومتیں غیرقانونی، غیرجمہوری رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومتوں کے ذریعے صوبائی تعصبات کا کھیل نہ کھیلیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کریں، پیشگی شرائط عاید نہ کریں،آئین کا تحفظ، قرآن و سنت کی بالادستی، آزاد عدلیہ، غیرجانبدارانہ انتخابات، وفاق اور صوبوں کے درمیان بااعتماد، خوشگوار تعلقات کی بحالی کے لیے صوبوں کے آئینی بنیادی حقوق اور وسائل کی فراہمی کو رہنما اْصول بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی پنجاب کے عوام کو کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔