موضوع: عمران خان کا سیاسی مستقبل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: عمران خان کا سیاسی مستقبل
مہمان تجزیہ نگار: سید شوکت شیرازی
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات و سولات:
عدالت کی طرف عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سزا سنا دی گئی، پبلک کا ردعمل کیسا رہا؟
پاکستان کے سیاسی مستقبل میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟
دونوں ایوانوں میں عمران خان نے دوسری پارٹی سے قائدین کو اپوزیشن لیڈر منتخب کیا ہے، کیا یہ مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے، یا خان صاحب کو اپنی پارٹی کے لیڈروں پر اعتماد نہیں ہے یا پھر وہ مائنس ون سے بچنا چاہتے ہیں، کیونکہ دوسری پارٹی کا لیڈر جتنا بھی پاپولر ہو جائے ظاہر ہے پی ٹی آئی میں ان کی جگہ نہیں لے سکتا؟
کیا نااہلی یا طویل عدالتی عمل عمران خان کو عملی سیاست سے باہر کر سکتا ہے؟
کیا تحریک انصاف عمران خان کے بغیر منظم اور مؤثر سیاسی قوت بن سکتی ہے؟
اگر عمران خان سیاست سے باہر ہو جاتے ہیں تو اس کا فائدہ یا نقصان کس کو ہوگا؟
کیا نوجوان طبقہ آج بھی عمران خان کو امید کی علامت سمجھتا ہے؟
کیا عمران خان پاکستانی سیاست کا اختتام پذیر باب ہیں یا ایک نئے سیاسی دور کا آغاز؟
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
· عمران خان کا سیاسی مستقبل—اہم موڑپر ہے
عمران خان: مقبولیت برقرار، مگرسیاسی سفرابھی مشکل اور سخت ہے
عمران خان کے ساتھ اس کی اہلیہ کو سزا سنانا اور قید وبند میں رکھنا عوام کے لئے ناپسندیدہ عمل ہے
عمران خان کی سیاست—عوامی حمایت بمقابلہ رکاوٹیں
عمران خان کی مقبولیت—نظام کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے
عمران خان کی سیاست نے طاقت کے مراکز کو مشکل میں ڈال دیا
پارلیمنٹ میں پارٹی سے باہر کے افراد کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا سیاسی حکمت عملی لگتی ہے
پی ٹی آئی کی میدان عمل میں لیڈر شپ مفاہمت کی آرزو مند لگتی ہے
مگر ہاڑد لائنر ضد، انا اورہٹ دھرمی پہ مصر ہیں
پی ٹی آئی کی لیڈر شپ زمینی حقائق سے اغماض نہیں برت سکتی
عمران خان کے حامیوں کا خیال ہے کہ وہ اب —ایک فرد نہیں، ایک سیاسی لہر بن چکا ہے
عمران خان کی سیاست نے طاقت کے مراکز کو مشکل میں ڈال دیا
موجودہ سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی بھلے قبول نہ ہو لیکن عوامی طور پہ مقبول جماعت ہے
گزشتہ سیاسی جماعتیں ڈیل کرکے دوبارہ اقتدار میں آتی رہیں مگر پی ٹی آئی فی الوقت اپنے مزاحمتی موقف پہ قائم ہے
تحریک انصاف عمران خان کے بغیر منظم اور مؤثر سیاسی قوت کے طور نہیں ابھر ہوسکتی
پی ٹی آئی کی لیڈر شپ میں مائنس ون کا کوئی چانس نہیں
عمران خان کا موقف ابھی تک مزاحمتی ہے
عمران خان کا پاکستان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی سوچ کوئی مثبت نہیں
عمراں خان کو سیاست سے آوٹ کرنے سے ملک کو نقصان ہوگا
عمران خان کو اپوزیشن میں رہ کر جو تجربات ہورہے ہیں وہ اس کے لئے بہترین سبق ثابت ہونگے
پاکستانی قوم اپنے وطن اور مسلح افواج سے اب بھی محبت کرتی ہے
مذاکرات کا عمل سیاست دانوں کے لئے بہترین حکمت عملی ہوتی ہے اگر اس کے مثبت نتائج ہوں
سیاست میں عدم برداشت کبھی ایک طرف سے نہیں ہوتی، اور یہ افسوسناک رویہ ہوتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر حلقے اور حکومت ساری سیاسی لیڈر شپ کو اپنے لوگ سمجھیں
ہمیں عوامی دانش کو سمجھ کر اس کا احترام کرنا ہوگا
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی مستقبل عمران خان کے ہے عمران خان عمران خان کی عمران خان کا پی ٹی آئی سیاست سے لیڈر شپ خان کو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔