شاداب خان کی 6 ماہ بعد واپسی، سری لنکا کے خلاف پاکستان کے 15 رکنی ٹی 20 اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
آل راؤنڈر شاداب خان کی 6 ماہ بعد قومی ٹیم میں واپسی ہو گئی ہے، جبکہ پاکستان کرکٹ کی نیشنل سلیکشن کمیٹی نے سری لنکا کے خلاف 3 میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سیریز آئندہ ماہ کھیلی جائے گی۔
سلمان علی آغا آئندہ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم کی قیادت کریں گے۔ وہ رواں سال سب سے زیادہ 34 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے شاہین آفریدی پھر گھٹنے کی انجری کا شکار، بگ بیش لیگ سے باہر ہونے کا خدشہ
27 سالہ شاداب خان نے جون میں آخری بار پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ وہ اس سال کے آغاز میں کندھے کی سرجری سے گزرے، جس کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کامیاب بحالی پروگرام مکمل کیا۔ اس وقت وہ آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ میں شرکت کر رہے ہیں۔
اسکواڈ میں ایک اور اہم اضافہ وکٹ کیپر بلے باز خواجہ نافع کا ہے، جو ابھی تک انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کر سکے۔ 23 سالہ دائیں ہاتھ کے بلے باز حال ہی میں پاکستان شاہینز اسکواڈ کا حصہ رہے ہیں۔ وہ اب تک 32 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 132.
پاکستان ٹیم جنوری کے پہلے ہفتے میں سری لنکا روانہ ہو گی۔ تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز رنگیری دمبولا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، دمبولا میں 7، 9 اور 11 جنوری کو کھیلے جائیں گے۔
یہ سیریز پاکستان کے لیے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے حتمی اسکواڈ کو ترتیب دینے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائے گا، جبکہ پاکستان اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیلے گا۔
سری لنکا سیریز: پاکستان کا 15 رکنی ٹی 20 اسکواڈسلمان علی آغا (کپتان)، عبدالصمد، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ نافع (وکٹ کیپر)، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاداب خان، عثمان خان (وکٹ کیپر)، عثمان طارق
نوید اکرم چیمہ (منیجر)، مائیک ہیسن (ہیڈ کوچ)، ایشلے نوفکے (بولنگ کوچ)، حنیف ملک (بیٹنگ کوچ)، شین میکڈرموٹ (فیلڈنگ کوچ)، کلیف ڈیکن (فزیوتھراپسٹ)، گرانٹ لوڈن (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ)، طلحہ اعجاز (اینالسٹ)، سید نعیم احمد (میڈیا منیجر)، کرنل عثمان انوری (سیکیورٹی منیجر)، ڈاکٹر واجد علی رفائی (ٹیم ڈاکٹر)، محمد احسان (مالش کرنے والے)
سری لنکا سیریز شیڈول7 جنوری کو پہلا ٹی 20 کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا 9 جنوری کو اور تیسرا 11 جنوری کو کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خواجہ محمد نافع سری لنکا ٹی 20 سیریز شاداب خان قومی اسکواڈ کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ محمد نافع سری لنکا ٹی 20 سیریز قومی اسکواڈ کا اعلان اسکواڈ کا ٹی ٹوئنٹی سری لنکا وکٹ کیپر جنوری کو کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز