سلمان خان کی ’بیٹل آف گلوان‘ کا ٹیزر جاری، فلم کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے اپنی 60ویں سالگرہ کے موقع پر مداحوں کو بڑا تحفہ دیتے ہوئے اپنی آنے والی جنگی فلم بیٹل آف گلوان (Battle of Galwan) کا ٹیزر جاری کر دیا ہے۔
یہ فلم 2020 میں گلوان ویلی میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان ہونے والی جھڑپ سے متاثرہ ہے۔ بہ الفاظ دیگر یہ ایک پراپیگنڈا فلم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان اور شاہ رخ خان کا مستقبل کیا؟ ماہر نجوم کی حیران کن پیشگوئی
ٹیزر میں سلمان خان ایک بھارتی فوجی افسر کے کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ ٹیزر کے ساتھ سلمان خان نے سوشل میڈیا پر کیپشن دیا:
“#BattleOfGalwan Teaser Out Now!”
یہ فلم معروف ہدایتکار اپورو لکھیہ کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے، جو اس سے قبل ’شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘ جیسی کامیاب فلم بنا چکے ہیں۔
’بیٹل آف گلوان‘، ریلیز کی تاریخ’بیٹل آف گلوان‘ 17 اپریل 2026 کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
فلم کو سلمان خان کی بہن سلمیٰ خان نے سلمان خان فلمز کے بینر تلے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ فلم میں سلمان خان کے ساتھ اداکارہ چترانگدا سنگھ بھی اہم کردار میں نظر آئیں گی۔
سلمان خان کا مؤقفاس سے قبل پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سلمان خان نے کہا تھا کہ یہ فلم ان کے کیریئر کے سب سے زیادہ جسمانی محنت طلب منصوبوں میں سے ایک ہے۔
ان کے مطابق ’یہ فلم جسمانی طور پر بہت مشکل ہے۔ ہر سال، ہر مہینے اور ہر دن یہ چیلنج بڑھتا جا رہا ہے۔ اب مجھے ٹریننگ کے لیے زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔ پہلے ایک یا 2 ہفتوں میں تیاری ہو جاتی تھی، اب دوڑنا، لات مارنا، مکوں کی مشق، سب کرنا پڑتا ہے۔ یہ فلم یہی تقاضا کرتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے ’میں کوئی بڑا اداکار نہیں‘ سلمان خان کا چونکا دینے والا اعتراف
انہوں نے مزید کہا کہ فلم کی شوٹنگ لداخ کے بلند پہاڑی علاقوں میں، شدید سردی اور ٹھنڈے پانی میں کی گئی، جو ایک اور بڑا چیلنج تھا۔
سلمان خان آخری بار فلم سکندر میں نظر آئے تھے، جو مارچ میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کی ہدایت کاری اے آر مرگداس نے کی تھی اور اس میں راشمیکا مندانا بھی مرکزی کردار میں شامل تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرٹینمنٹ بیٹل آف گلوان چین کے خلاف پراپیگنڈا فلم سلمان خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ یہ فلم
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔