پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام بینظیر کی برسی پر تقریب: شمعیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور (نامہ نگار) پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور صدر وویمن ونگ پنجاب ثمینہ خالد گھرکی نے کہا ہے کہ گراو نڈ رئیلٹی بدل چکی ہے۔ کارکنوں کو اس کا ادراک کرنا ہو گا، آپس میں رابطے بڑھانے اور ملکر چلنا ہو گا، بی بی کی شہادت پاکستان کا بہت بڑا نقصان تھا، ہمیں آج اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاو ن میں بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر ہونیوالی دعائیہ تقریب کے بعد کارکنوں سے خطاب کر رہی تھیں۔ نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری پی پی لاہور رانا جمیل منج نے انجام دیئے۔ اس موقع پر شہزاد سعید چیمہ، رانا جمیل منج، اشرف خان، فائزہ ملک، عمر شریف بخاری، میاں ایوب، چودھری ریاض، عامر نصیر بٹ، عارف خان، نرگس خان، آصف ہاشمی، زاہد علیشاہ، رانا اکرام ربانی، افضل چودھری، صغیرہ اسلام، منیرڈگرا، سہیل ملک، رانا اشعر حیات، جاوید اختر، چودھری سجاد نذیر، میر شکیل چنی، شاہدہ جبیں، ناہید ہماءندیم ملک، رانا شمشاد، مرزا ادریس، اقبال گورایہ، ذیشان شامی، راﺅ شجاعت، شیخ روشن، رانا اکرام، خاور ناہید موہل، فرحت یاسمین، شبانہ گل، انجم بٹ، عمر ایاز، سلیم مغل، کامران ڈار، ریاض جٹ، آفتاب بھٹی، سمیت پارٹی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ قاری ثناءاللہ نے بی بی شہید اور دیگر پارٹی شہداءکیلئے دعا کرائی جبکہ پارٹی جیالوں اور جیالیوں نے آخر میں شہداءکی یاد میں شمعیں روشن کیں۔ جیالوں کیلئے لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ثمینہ گھرکی نے کہا کہ مجھے بھٹو اور بی بی صاحبہ کیساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہر دور میں ٹارگٹ کیا جاتا رہا ہے۔ حسن مرتضیٰ گزشتہ برس سفر بینظیر ٹرین لیجا کر سب سے نمبر لے گئے۔ فائزہ ملک، رانا اکرام ربانی، جاوید اختر، میاں ایوب، عارف خان، آصف ہاشمی، شاہدہ جبیں، سہیل ملک نے بھی شہید محترمہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر محنت اور جرات سے پارٹی اور دنیا میں اپنا مقام بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔