پنجاب میں ملک کا پہلا اور منفر دسہولت آن دی گو بازار عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پنجاب میں ملک کا پہلا اور منفرد “سی ایم سہولت آن دی گو بازار” عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں شہریوں کو معیاری اور سستی اشیا دستیاب ہیں جبکہ ریڑھی بانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ریڑھی بانوں کو 400 سے زائد اسٹالز اوپن قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے گئے ہیں، جس سے وہ باقاعدہ دکاندار بن گئے ہیں۔
لاہور میں پہلے مرحلے کے تحت دس مقامات پر سہولت آن دی گو بازار قائم کیے گئے ہیں جن میں گلشنِ راوی، شادمان، مادرِ ملت، مدینہ مارکیٹ، ٹاؤن شپ، سندر روڈ، کوٹھا پنڈ فیصل ٹاؤن شامل ہیں جبکہ کھاڑک نالہ، اعوان ٹاؤن، ویلنشیا اور شاہدرہ میں بھی سہولت آن دی گو بازار فعال ہیں۔ ان بازاروں میں پھل، سبزیاں، چکن اور کریانہ کی اشیا ڈی سی ریٹس پر فراہم کی جا رہی ہیں۔
سہولت آن دی گو بازار میں سکیورٹی، واش روم اور صفائی کا بہترین انتظام کیا گیا ہے جبکہ ڈرائیو تھرو خریداری کی سہولت بھی موجود ہے۔
حکام کے مطابق فروری تک لاہور میں مزید پانچ مقامات پر سہولت آن دی گو بازار فنکشنل کیے جائیں گے، جبکہ برکی، صدر، نشتر ٹاؤن، رائے ونڈ فیز ٹو، فیصل ٹاؤن، مون مارکیٹ اور فیروز والا میں منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
ریڑھی بانوں اور دکانداروں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ ریڑھی والے نہیں بلکہ اپنی دکان کے باقاعدہ مالک بن چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے کھڑے ہونے کے بجائے انہیں مستقل چھت میسر آ گئی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سہولت آن دی گو بازار قائد محمد نواز شریف کے کلین اور خوبصورت لاہور کے ویژن کا حصہ ہے، حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ہر غریب محنت کش بھی مستفید ہو، اور ایسے منصوبے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مرحلہ وار متعارف کرائے جائیں گے۔
چیئرمین پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے مطابق سہولت آن دی گو بازار کے قیام سے رمضان بازاروں میں دی جانے والی سبسڈی کی ضرورت بھی کم ہو گی اور عوام کو سستی اشیا سال بھر دستیاب رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سہولت آن دی گو بازار نواز شریف
پڑھیں:
سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :