پی ٹی آئی انتہا پسندی چھوڑ دے، یہ ان کیلئے بہتر ہوگا، بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے پیغام ہے کہ انتہا پسندی چھوڑ دے، یہ پی ٹی آئی اور ان کے کارکنوں کے لیے بہتر ہوگا۔
لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی شدت پسندی کی سیاست چھوڑ دے اس سے ملکی سیاست پر اچھا اثر پڑے گا، انتہا پسندی کی سیاست کی جائے تو جواب میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لیڈر کی گرفتاری اور کیس پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہ کریں، پیپلز پارٹی اگر یہ قدم اٹھاتی تو پتہ نہیں ہمارے ساتھ کیا حشر کیا جاتا، ان کے ساتھ تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہماری ترجیح ہے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں، سیاست کے لیے مزید گنجائش نکلنا ملک کے مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی بی کی برسی پر وفد بھیجنے پر وزیراعظم اور میاں نواز شریف کے شکرگزار ہیں، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی اپنا نقطہ نظر رکھتی ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے عوام کو بہتر سہولت دلا سکتے ہیں، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو ترجیح دیتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وفاق کو معاشی بحران ایڈریس کرنا ہے تو اہم کردار پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہوسکتا ہے، وفاق کو سندھ حکومت کے پبلک پارٹنر شپ سے سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وہ کام کر رہی ہے جو دیگر صوبوں میں نہیں ہو رہے، مریضوں کو سو فیصد مفت طبی سہولتیں دی جارہی ہیں، بچوں کو عالمی معیار کے مطابق مفت طبی سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے بعد بچوں کی سب سے کم شرح اموت سندھ میں ہے، بچوں کی زندگی بچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ طبی میدان میں سندھ کی سہولت کا کوئی مقابلہ نہیں، سندھ میں عالمی معیار کے صحت کے مراکز قائم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارٹنر شپ پی ٹی آئی کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔