پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہیے: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل انتہا پسندی نہیں بلکہ مفاہمت اور سیاسی استحکام میں ہے،انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ طرزِ سیاست ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہیے، کیونکہ حقیقی ترقی اور استحکام اسی راستے سے ممکن ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے معاشی بحران اور مالی گنجائش کے مسائل حل کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو ترجیح دینی چاہیے۔
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی
ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت معاشی بحران کو مؤثر انداز میں ایڈریس کرنا چاہتی ہے، خصوصاً فسکل اسپیس کے مسئلے کو، تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے،ان کے مطابق سندھ حکومت کا یہ ماڈل نہ صرف مؤثر ثابت ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے پذیرائی ملی ہے۔
کنٹریکٹ اور ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں ختم کرنے کا اعلان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو معروف عالمی جریدے اکانومسٹ میگزین نے خطے میں چھٹا نمبر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ماڈل وفاقی سطح اور دیگر صوبوں میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش آ کر وقت دیا،انہوں نے واضح کیا کہ یہ ملاقات صرف برسی کے حوالے سے تھی، اس میں نہ کوئی سیاسی گفتگو ہوئی اور نہ کسی اور معاملے پر بات کی گئی۔
پنجاب :’’سہولت آن دی گو بازار‘‘ عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا
لمبی اننگز سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس کا فیصلہ عوام کریں گے،عوام ہی طے کریں گے کہ کون لمبی اننگز کھیلے گا اور کون سے سیاسی کومبینیشنز بنیں گے، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسا ماحول بنائیں جس سے سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو، تو یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہوگا، ان کے مطابق معاشی مشکلات اور قومی سلامتی جیسے بڑے مسائل کا طویل المدتی حل کسی ایک جماعت کی لمبی اننگز نہیں بلکہ حقیقی اور پائیدار سیاسی استحکام ہے۔
ویڈیوز وائرل کیسے ہوتی ہیں ؟،ٹک ٹاک کا راز بے نقاب
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر انہی کے نظریے اور منشور کے مطابق بات کر رہے ہیں، ان کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو کا سیاسی پیغام مفاہمت پر مبنی تھا اور آج بھی پاکستان کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر سیاست انتہا پسندی کی جائے گی تو اس کے ردعمل میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ کسی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے ردعمل میں قومی اداروں پر حملے درست نہیں۔
برطانیہ: سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف مظاہرہ
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں ان کی واضح تجویز یہی ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے اور اپنی سیاست کو جمہوری دائرے میں واپس لے آئے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ پی ٹی آئی، اس کے کارکنوں اور ملک کی مجموعی جمہوری سیاست کے لیے بہتر ہوگا اور اس کے مثبت اثرات پورے پاکستان پر پڑیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پیپلز پارٹی انتہا پسندی ان کے مطابق پی ٹی آئی انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔