ایس پی شہر بانو نقوی نے ڈاکٹر علی زین کے سنگین الزامات کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور کے ایک ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے جب کہ خاتون پولیس افسر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاہور کے ڈاکٹر علی زین نے ایس پی شہر بانو نقوی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں تاہم ایس پی شہر بانو نے ڈاکٹر کے ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے، اپریل میں مریضہ کی آنکھ کی لیزر سرجری کی، جو کہ بالکل ٹھیک تھی۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے اپنا موقف دیتے کہا کہ پولیس نے کہا آپریشن ٹھیک نہیں کیا، آپ مریضہ کو پیسے دیں تاکہ وہ اپنا آپریشن کسی اور جگہ سے کروائیں۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی نے کال کر پولیس اسٹیشن بلایا تھا، شہر بانو نقوی نے کہا کہ مریضہ کا آپریشن آپ نے غلط کیا ہے، اسے آپریشن کے پیسے واپس کئے جائیں، مریضہ پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے چار لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ نے حالانکہ آنکھوں کی لیزر سرجری کے لئے مجھے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے دئیے تھے۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے شہر بانو نقوی کو بتایا کہ میں پہلے ہی رقم دے چکا ہوں، جس پر اس نے کہا کہ آپ رقم دوبارہ دیں، پولیس کے زور زبردستی کرنے پر میں نے مزید دس لاکھ روپے کے تین چیکس مریضہ کے حوالے کردئیے، تین میں سے ایک چیک کیش بھی ہوچکا ہے، مزید دو چیکس رکوانے کے لئے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ خاتون پولیس کی زور زبردستی کی وجہ سے مجھ سے اب تک ساڑھے ساتھ لاکھ روپے لے چکی ہے، خاتون کا پولیس کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ شہر بانو نقوی نے مجھے پولیس اسٹیشن بلوانے کے لئے ایس ایچ او خرم کو میرے کلینک بھی بھیجا تھا، ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے لے کر حوالات میں بند کردیا۔
ڈاکٹر علی زین العابدین نے کہا کہ پولیس بغیر میڈیکل رپورٹ کے یا میڈیکل بورڈ کے فیصلہ کے بغیر کسی بھی ڈاکٹر کو پولیس اسٹیشن نہیں بلوا سکتی تھی، پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ ڈاکٹر نے آپریشن ٹھیک کیا یا نہیں، یہ فیصلہ کرنے کے لئے ان کے پاس کون سے ڈگریاں دستیاب ہیں، کسی بھی آپریشن کے درست ہونے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افیسر نہیں کرتا ہے۔
دوسری جانب ایس پی شہر بانو نقوی نے تشدد اور ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علی زین میرے دفتر ایک بار آئے تھے، ڈاکٹر علی زین کو مریضہ سے معاملات طے کرنے کا کہا تھا، ڈاکٹر علی زین سے نہ ہی بدتمیزی ہوئی نہ تشدد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام الزامات کی تردید شہر بانو نقوی نے ایس پی شہر بانو لاکھ روپے کہ پولیس بتایا کہ پولیس ا کے لئے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔