2025 میں 24 ہزار سے زائد بھارتی شہری دنیا بھر سے کیوں ڈی پورٹ ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سال 2025 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک سے 24 ہزار 600 سے زائد بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بھارت کی وزارتِ خارجہ نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں پیش کیے، جنہیں خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ڈی پورٹیشنز سعودی عرب سے ہوئیں، جہاں سے مجموعی طور پر 10 ہزار 884 بھارتی شہری واپس بھیجے گئے۔ ان میں ریاض سے 7 ہزار 19 جبکہ جدہ سے 3 ہزار 865 افراد شامل تھے۔
سعودی عرب کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 2025 کے دوران 3 ہزار 812 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات سے 1 ہزار 469 بھارتی شہری واپس بھیجے گئے، جو گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 2021 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 979 بھارتی شہری ڈی پورٹ ہوئے۔ سال 2024 میں 899، 2023 میں 666، 2022 میں 587 اور 2021 میں 358 بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پورٹیشن کی بڑی وجوہات میں ویزا کی مدت سے زائد قیام، ورک پرمٹ کے بغیر ملازمت، اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی نوکری آفرز، فرضی بھرتی، آجر سے فرار ہونا (ابسکونڈنگ) اور سول یا فوجداری مقدمات بھی وجوہات میں شامل رہے۔
متحدہ عرب امارات نے 2024 میں ویزا ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد غیر قانونی رہائش رکھنے والے افراد کو اپنی حیثیت درست کرنے یا جرمانے کے بغیر ملک چھوڑنے کا موقع دینا تھا۔
یہ اسکیم یکم ستمبر 2024 سے شروع ہوئی، جسے پہلے 31 اکتوبر تک رکھا گیا اور بعد میں بڑھا کر 31 دسمبر 2024 تک کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ 2007 کے بعد یو اے ای کی چوتھی ایمنسٹی اسکیم تھی۔
دیگر ممالک سے بھی بھارتی شہریوں کی ڈی پورٹیشن رپورٹ ہوئی، جن میں ملائیشیا سے 1 ہزار 485، بحرین سے 764، سری لنکا سے 372، تھائی لینڈ سے 481 اور برطانیہ سے 203 افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا سے 188، جارجیا سے 133 اور آسٹریلیا سے 34 بھارتی شہریوں کو بھی 2025 میں واپس بھیجا گیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق اکثر ممالک غیر قانونی قیام کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کرتے اور عام طور پر صرف ڈی پورٹیشن آرڈر، سفری دستاویزات یا شہریت کی تصدیق کے لیے بھارتی مشنز سے رابطہ کیا جاتا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بھارتی مشنز جعلی بھرتی اور دھوکہ دہی کرنے والے جاب گینگز کے خلاف باقاعدہ ایڈوائزریز بھی جاری کرتے ہیں تاکہ شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی شہریوں کو بھارتی شہری کے مطابق ڈی پورٹ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔