عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کروایا، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ الطاف حسین ’را‘ سے فنڈنگ لیتے رہے ہیں، یہ پوری نسل برباد کر چکا ہے اور اب بھی برباد کر رہا ہے، یہ 40 سالوں میں کتنے لوگوں کو کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ عمران فاروق کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے مروایا، بانی متحدہ نے نشے میں دُھت ہو کر عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم ڈرامے باز آدمی ہے، بانی متحدہ لاشوں پر آئٹم سانگ کرتے ہیں، بانی متحدہ سمجھتا ہے کہ وہ راجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بانی ایم کیو ایم نے ناٹک شو کیا، بانی نے لاش پاکستان بھیجنے کیلئے لاکھوں پاؤنڈ کا چندہ وصول کیا، بانی متحدہ کی سالگرہ پر عمران فاروق کو مار کر تحفہ دیا گیا، لاش کیلئے چندہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ’را‘ سے فنڈنگ لیتے رہے ہیں، یہ پوری نسل برباد کر چکا ہے اور اب بھی برباد کر رہا ہے، یہ 40 سالوں میں کتنے لوگوں کو کھا گیا، اب بھی کھا رہا ہے، عمران فاروق کے بچوں سے درخواست کرتا ہوں کہ بانی سے رابطہ نہیں کریں۔
انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم نے میت پاکستان بھیجنے کیلئے دنیا بھر سے چندا اکٹھا کیا، میں نے دو سال سے بانی ایم کیو ایم پر بات کرنا چھوڑ دی تھی، ڈرامہ کر رہا ہے، تکیے کے نیچے سے 5 لاکھ پاؤنڈ نکلے، آفس سے 6 لاکھ پاؤنڈ نکلے، ان کے پاس 6 ہزار پاؤنڈ نہیں تھے، عمران فاروق کی بیوی کیلئے۔ انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار ہے، مہاجر قوم بڑی بدقسمت ہے، کیا کرمنل قائد ملا ہے ہمیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئینی ترمیم لے کر گھوم رہے تھے، اس کو اللہ نے اتنی طاقت دی تھی، اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا اب یہ ہمیں کہہ رہا ہے، اس نے آئینی ترمیم کیلئے کبھی ہڑتال کی، جب ایک آواز پر 5 لاکھ لوگ جمع ہو جاتے، 20 سال پہلے یہ سب کرتا تو 10 منٹ میں آئینی ترمیم ہوتی، لیکن یہ نہیں چاہتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی ایم کیو ایم انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کو الطاف حسین کہ بانی اب بھی رہا ہے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ