اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال، لائینز کلبز اور برداشت پاکستان کا میگا میڈیکل کیمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال نے لائینز کلبز راولپنڈی اسلام آباد اور برداشت پاکستان کے اشتراک سے اتوار کے روز سیدہ حفیظہ بیگم ویلفیئر کمپلیکس، ترنول اسلام آباد میں ایک میگا میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد پسماندہ طبقات کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بیماریوں سے بچا کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا تھا۔میڈیکل کیمپ سے ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد نے استفادہ کیا، جن میں خواتین، بزرگ شہری اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مستفید ہونے والے افراد نے ایک ہی مقام پر بروقت طبی معائنہ، تشخیصی سہولیات اور ادویات کی فراہمی پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ان کے علاج معالجے کا بوجھ کم ہوا بلکہ صحت کے جاری مسائل کے لیے بروقت رجوع کرنے کا حوصلہ بھی ملا۔کیمپ میں مختلف طبی شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز نے خدمات انجام دیں جن میں اطفال، امراضِ نسواں، نفسیات، یورولوجی، امراضِ قلب، پھیپھڑوں کے امراض، معدہ و جگر، گردوں کے امراض، جلد، فزیوتھراپی، ڈینٹل اور آئی کیئر شامل تھے۔ اس کے علاوہ ای سی جی، بون ڈینسٹی ٹیسٹ، بی ایم آئی اسسمنٹ، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کی جانچ جیسی تشخیصی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال اور برداشت پاکستان کی جانب سے مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ جامع اور مثر علاج ممکن بنایا جا سکے۔ڈاکٹر عارف مسعود، لائینز کلبز ڈسٹرکٹ گورنر، 35-ن2، پاکستان، نے بطور مہمانِ خصوصی کیمپ میں شرکت کی اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی سطح پر صحت کے ایسے پروگرامز نہایت اہم ہیں جو بیماریوں کی بروقت تشخیص اور احتیاطی نگہداشت کو فروغ دیتے ہیں، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔اس موقع پر مس نیلوفر بختیار، سرپرستِ اعلی برداشت پاکستان اور سابق سینیٹر و وفاقی وزیر، نے اکبر نیازی ہسپتال اور لائینز کلبز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اشتراکی اقدامات صحت کی سہولیات میں موجود خلا کو پر کرنے اور عوام میں صحت و تندرستی سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

گروپ سی ای او، جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال، جناب یاسر خان نیازی نے کمیونٹی فلاح و بہبود کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معیاری صحت کی سہولیات کو ہسپتالوں کی حدود سے باہر لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے مسلسل آٹ ریچ اور احتیاطی صحت کے اقدامات ناگزیر ہیں۔مہمانانِ گرامی نے برداشت پاکستان کے صدر ڈاکٹر زبیر حسن کے ہمراہ میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا، طبی عملے اور مریضوں سے ملاقات کی اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ منتظمین کے مطابق میگا میڈیکل کیمپ کا بنیادی مقصد نہ صرف طبی سہولیات کی فراہمی تھا بلکہ صحت مند طرزِ زندگی اور بیماریوں سے بچا کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا بھی تھا۔ مقامی مکینوں نے اس اقدام کو بروقت، حوصلہ افزا اور نہایت مثر قرار دیتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا رات گئے شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا رات گئے شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، بلاول بھٹو اسلام آباد میں یکم جنوری سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہو گی: وزیر داخلہ پنجاب میں ’’سہولت آن دی گو بازار‘‘ عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا پی ٹی آئی کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں: بیرسٹر عقیل ملک الطاف حسین نے عمران فاروق کو مروایا، قائد ’را‘ سے پیسے لے رہا ہے: مصطفیٰ کمال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور برداشت پاکستان لائینز کلبز اسلام آباد کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو