ٹیلی گراف بھی فیلڈ مارشل کی کرشماتی سفارتکاری کا معترف، رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف نے پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں 2025 میں آنے والی بے مثال بہتری پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں پاکستان کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے. لیکن دوسری مدت میں پاکستان وائٹ ہاؤس میں اہم اور مؤثر شراکت دار بن گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کا اسٹریٹجک ریٹرن ممکن بنانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عسکری اور سفارتی محاذ پر کلیدی کردار ادا کیا۔آرٹیکل میں بتایا گیا کہ پاکستان نے واشنگٹن میں غیر روایتی سفارتکاری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور وائٹ ہاؤس کے ماحول میں تبدیلی لائی۔اہم پیش رفتوں میں ایبی گیٹ حملے کے ملزم کی فوری امریکہ حوالگی، امریکی کانگریس میں دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون پر پاکستان کا خصوصی شکریہ اور بھارت کی شدید لابنگ کے باوجود سفارتی سبقت حاصل کرنا شامل ہیں۔پاکستان کو کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر تجارتی ٹیرف رعایتیں بھی دی گئیں اور وزیراعظم و فیلڈ مارشل کو اوول آفس میں براہِ راست رسائی حاصل ہوئی۔
مزید برآں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر کے غیر معمولی سفارتی اقدام کیا، جبکہ داعش خراسان کے کمانڈر جعفر کی گرفتاری اور ایبی گیٹ حملے کے ملزم کی فوری حوالگی پاکستان کی سنجیدہ نیت کا مظہر بنی۔جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے آف دی ریکارڈ ملاقات نے اعتماد میں اضافہ کیا اور غزہ سیز فائر کے موقع پر انہیں “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا گیا۔پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں مؤثر اور ذمہ دار اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کی، جی سی سی ممالک سے قربت قائم کی اور ایران کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے۔ستمبر میں چھ کھرب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر پر پاک,امریکا تعاون کا ایم او یو سائن ہونا عالمی سطح پر پاکستان کی کامیابی کے اہم مظاہر میں شامل ہے۔دی ٹیلی گراف کے مطابق پاکستان کی مؤثر اور ٹھوس سفارتکاری نے وائٹ ہاؤس میں اسے دوبارہ مرکزی حیثیت دلا دی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد یافتہ شراکت دار کے طور پر اس کی شناخت کو مضبوط کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کی فیلڈ مارشل
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم