سیکیورٹی فورسز کی قلات میں کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 27 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، ویژن “عزمِ استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔