ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائینگے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، پاکستان قیام امن کے لیے واضح مینڈیٹ کی صورت میں تو غزہ جاسکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے یا حماس کی بنائی گئی سرنگیں ختم کرنے نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیں گے، اس حوالے سے سول ملٹری قیادت میں بڑی وضاحت ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان صرف قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے، پاکستان قیام امن کے لیے واضح مینڈیٹ کی صورت میں تو غزہ جاسکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے یا حماس کی بنائی گئی سرنگیں ختم کرنے نہیں، کیونکہ یہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے لڑانے والی بات ہوگی، پاکستان ایسی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ہزار علماء کا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی نہ کرنے کا فتویٰ خوش آئند ہے، افغانستان کی طرف سے اعلان کے بعد ہمیں اس کے اثرات دیکھنا ہوں گے، ہم نے یو این کے جتنے کنٹینرز تھے انہیں انسانی بنیادوں پر افغانستان جانے کی اجازت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں دہشت گردی کا 98 فیصد خاتمہ کردیا تھا، تیس 40 ہزار دہشت گرد واپس آئے اور دوبارہ دہشت گردی شروع کردی، اگر پاکستان کو خوشحال بنانا ہے تو اس دہشت گردی سے جان چھڑانا پڑے گی۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے برطانیہ کو ڈیمارش کیا ہے اور بالکل ٹھیک کیا ہے، یہ اُس ملک کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایسے کاموں کو روکے، یورپی یونین سے چار سال سے کوئی فعال رابطہ نہیں تھا، ہمارا یورپی یونین کے ساتھ چار سال بعد برسلز میں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ ہوا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ میں ہم نے کسی سے جنگ بندی کے لیے نہیں کہا، نور خان ائیربیس پر حملہ بھارت کی بڑی غلطی تھی، پاکستانی افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا، 9 مئی کی رات وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیصلے ہوئے، جنوبی ایشیا میں 4 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، پاکستان میں 36 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے گئے، ہم نے 79 ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے ایک فوجی تنصیب پر تھوڑا نقصان کیا اور ایک بندہ زخمی ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح کرنے اسحاق ڈار کرنے نہیں قیام امن کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔