پاکستان غزہ میں قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش میں شامل نہیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں صرف قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش میں شریک نہیں ہوگا۔
دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی کامیاب رہا اور صدر یو اے ای اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ ڈپازٹس کے ذریعے پاکستان کی مالی معاونت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات جنوری میں 2 ارب ڈالر کے رول اوور کے لیے بھی تیار ہے، جبکہ بقایا 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع بھی ہے۔ اس کے علاوہ، یو اے ای پاکستان کی فوجی فاؤنڈیشن میں حصہ لینے پر بھی آمادہ ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پی ڈی ایم حکومت کے آغاز میں پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، مگر آج ملک کا عالمی وقار بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے اور بھارت کی مسلسل غلط بیانی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے پہل نہیں کی۔ انہوں نے پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بہانے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ جب تک کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات 2025 میں دوبارہ بحال ہوئے ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم 13.
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان صرف قیامِ امن کی کوششوں میں حصہ لے گا اور غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیوکلیئر اور میزائل پروگرام نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک معاشی طور پر مضبوط بنے تاکہ پاکستان مسلم امہ کی قیادت کے قابل ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہ پاکستان انہوں نے ارب ڈالر کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز