طاقت کے بغیر ڈپلومیسی بے فائدہ ہے، حزب الله
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اپنے ایک خطاب میں علی فیاض کا کہنا تھا کہ لبنان کو ایسی صورت میں شمالی دریائے لیطانیہ سے متعلق، جنگبندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے جب اسرائیل اب بھی ہمارے ملک کے جنوبی حصے پر قابض ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" كے سیاسی دھڑے "الوفاء للمقاومۃ" كے ركن "علی فیاض" نے کہا کہ طاقت، استحکام اور پائیداری پر انحصار کے بغیر، ڈپلومیسی بے فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت، لبنان کا فطری حق ہے تاکہ وہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر سکے۔ انہوں نے ناقورۃ میں ہونے والے مذاکراتی عمل کو مورد تنقید ٹہرایا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مذاکراتی عمل اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے دائرے سے آگے بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار "نبطیہ" شہر میں استقامتی محاذ کے ایک شہید کی تقریب سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بین الاقومی قوانین کو پامال کرنے والے یہ اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات ہی ہیں جو ہماری مزاحمت کو قانونی جواز بخشتے ہیں۔ جب تک لبنان کے پاس صیہونی جارحیت کا توڑ نہیں نکلتا اس وقت تک مقاومت جاری رہے گی۔
تاہم اس وقت مقاومت کو ترک کرنے کا مطلب لبنان کی تباہ کُن شکست ہوگا۔ علی فیاض نے وضاحت کی کہ لبنان کو ایسی صورت میں شمالی دریائے لیطانیہ سے متعلق، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے جب اسرائیل اب بھی ہمارے ملک کے جنوبی حصے پر قابض ہے اور لبنانی فوج کو طے شدہ مقامات پر مکمل تعیناتی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ لہٰذا ناقورۃ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کے یکطرفہ مطالبات، لبنان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قرارداد 1701 سے آگے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو مذاکراتی اور سیاسی عمل کے توازن کے لئے تباہ کن خطرہ قرار دیا۔ اس تناظر میں انہوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے داخلی اتحاد کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنوبی لیطانیہ میں اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 میں طے شدہ شرائط پر مکمل عملدرآمد، اپنے دفاعی حق اور پورے ملک میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی حمایت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جا رہی
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔