جعلی نمائندے فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی سے خوفزدہ ہیں، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط طبقہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے خواہاں نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان نے 28 دسمبر کو کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سے جماعت اسلامی کوئٹہ کے امیر عبدالنعیم رند، صوبائی نائب امیر زاہد اختر بلوچ، جمیل احمد مشوانی، مولانا عبدالحمید منصوری، ارشد یوسفزئی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط طبقہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے خواہاں نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور کوئٹہ گندگی کے ڈھیر اور کھنڈرات میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ جعلی نمائندے فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ وہ زر اور زور پر آئے ہیں۔ انہیں کوئٹہ کی پسماندگی سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ دیئے گئے پیسے نکالنے آئے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے۔
مقررین نے کہا کہ کوئٹہ کے فیصلے کرنا منتخب بلدیاتی نمائندوں کا حق ہے۔ انہیں حق نمائندگی سے محروم رکھنے پر کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شاہراہوں، گلی، کوچوں کی حالت زار بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ صفائی، ستھرائی اور ترقی کا کوئی جھلک نظر نہیں آرہا ہے۔ ہر طرف کرپشن اور کمیشن کے چرچے زبان زد عام ہے۔ مقررین نے کہا کہ دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہے۔ ہمارے ہاں نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کئے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ ماضی کا لٹل پیرس کوئٹہ اب گندگی کی ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ خالی خولی دعوئوں سے زمینی حقائق تبدیل نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ کوئٹہ کے مسائل کا حل نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہے۔ مظاہرین نے 28 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کرکے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔