ایران کیخلاف اسرائیلی حکام کے بیانات تشویشناک ہیں، سرگئی لاوروف
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سال 2025ء میں ہم نے عالمی سطح پر المناک حادثوں کا مشاہدہ کیا جس کی ایک مثال ایران کیخلاف امریکہ و اسرائیل کی جارحیت تھی۔ اسلام ٹائمز۔ روسی وزیر خارجہ "سرگئی لاوروف" نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کے جنگ طلب بیانات تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تاس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ یہ انٹرویو مخلتف حصوں میں میڈیا پر جاری ہوا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ سال 2025ء میں ہم نے عالمی سطح پر المناک حادثوں کا مشاہدہ کیا جس کی ایک مثال ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جارحیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ IAEA مسلسل ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی کر رہی تھی لیکن پھر بھی امریکہ و اسرائیل نے ان تنصیبات پر بمباری کی۔ جس کی روس شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔
سرگئی لاوروف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مسلسل دھمکیوں کا ذکر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے دوبارہ استعمال کے بیانات پریشان کُن ہیں۔ واضح رہے کہ صیہونی رژیم نے ایران پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا اور اسی بہانے ایران کی پُرامن ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا۔ حالانکہ اسرائیل خود خطہ مغربی ایشیاء میں واحد ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کا مالک ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا سب بڑای حامی امریکہ بھی دنیا کی تاریخ میں وہ واحد ملک ہے جس نے نہتے شہریوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کئے۔ یاد رہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پُرامن نوعیت کا ہے اور وہ اسے علاج معالجے و دیگر ایجادات کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ و اسرائیل ایران کے خلاف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔