ریحام رفیق ڈپریشن میں مبتلا، مداحوں سے دعا کی اپیل ؟ اداکارہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ریحام رفیق نے ڈپریشن کا سامنا کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
کچھ عرصے سے ڈپریشن کے باعث سوشل میڈیا سے دور رہنے والی اداکارہ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر مختصر ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انہیں ذہنی دباؤ سے نبردآزما ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اداکارہ نے مداحوں اور عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی شخص اپنی ذہنی مشکلات کے بارے میں بات کرے تو اس کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، اسے سنجیدگی سے لیں اور مناسب ماحول فراہم کریں۔
ریحام نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ وہ یہ ذاتی لمحات ہمدردی کے لیے نہیں بلکہ آگاہی کے لیے شیئر کررہی ہیں۔ ذہنی صحت کوئی ڈرامہ بلکہ دردناک ہے اور کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ بس زندہ رہنا ہی ایک مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ذہنی صحت کے بارے میں آواز بلند کروں گی چاہے لوگ میرا مذاق کیوں نہ اُڑائیں، میں اس سفر کو جاری رکھوں گی اور شکر گزار ہوں کہ آپ میرے ساتھ ہیں۔
ریحام رفیق نے اپنے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور متعدد افراد نے ان کی صحت یابی اور حوصلے کے لیے دعائیں کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔